مکیلی کو موزونی بنانے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 5 #140Urdu
Vol. 5كتاب البيوعباب (۸): بیع صرف کا بیان

Question

دیہات میں عورتیں بوقتِ ضرورت پڑوسن سے تین کیلو آٹا بطورِ قرض لیتی ہیں، پھر دوسرے وقت تین کیلو واپس کرتی ہیں، فقہ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ گیہوں اور آٹا مکیلات میں سے ہیں، اور مکیلی کو موزونی بنانے کی اجازت نہیں، کیوں کہ وزن میں برابری کے باوجود کیل میں کمی بیشی کا امکان رہتا ہے، شرعاً اس کا کیا حکم ہے؟

Answer

یہ معاملہ قرض کا ہے اور قرض میں مثل کا واپس کرنا ضروری ہے، اور تین کیلو تین کیلو کا مثل ہے، اس لیے یہ معاملہ جائز ہے، نیز بیع میں بھی تین کیلو آٹا تین کیلو کے عوض غیر مؤجل فروخت کرنا جائز ہے، اس لیے کہ اب آٹا وزنی بن چکا ہے اور امام ابو یوسف رحمہ الله کے نزدیک جب کیلی میں وزنی ہونے کا عرف بن جائے تو وزن کے ساتھ برابر فروخت کرنا جائز اور درست ہے اور اسی پر فتوی ہے ۔
ملاحظہ ہو "شرح القواعد الفقہیہ" کے حاشیہ میں مصطفی زرقا فرماتے ہیں:

وقال مصطفى أحمد الزرقا: خلافاً لا بي يوسف رحمه الله الذي يعتبر المقياس المتعارف فيهما مطلقاً في كل زمن بحسبه، ويتبدل مقياس التساوي بتغير العرف تبعاً له حيث يعلل النص بالعرف الذي كان قائماً وقت وروده، فلا يكون اتباع العرف عند أبي يوسف رحمه الله مخالفاً للنص، بل يراه هو الموافق للنص، وأن الثبات على المقياس القديم الذي ورد في النص هو المخالف للنص، فهو يعتبر هذا النص نصاً عرفياً، بمعني أنه ذكر فيه المقياس الذي عينه النص، لأنه كان هو المتعارف حين وروده النص، ولو كان المتعارف مقياساً آخر لورد النص بذلك الآخر، لأن مقاييس الكميات تتبع الأعراف، ولتنظر رسالة "نشر العرف فيما بني من الأحكام على العرف" لا بن عابدين رحمه الله. وقد أوضحت هذه المسألة في كتابي المدخل الفقهي العام. (حاشية شرح القواعد الفقهية، ص ۲۲۱، تحت القاعدة: "العادة محكمة").

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.