میڈیکل انشورنس اور امدادِ باہمی:

5 min readFatwa Vol 5 #193Urdu
Vol. 5كتاب البيوعبابِ: سودی مصارف کا بیان

Question

میڈیکل انشورنس کی یہ شکل مثلاً ایک آفس کے چند دوست و احباب نے باقاعدہ ایک فنڈ قائم کیا کہ ہر شخص ہر تنخواہ پر چند روپے فنڈ میں جمع کرائے اور پھر بوقتِ ضرورت ہر ممبر کے علاج کے موقع پر اسے مالی امداد مہیا کرے، اگر فنڈ میں سے زیادہ بیمار ممبروں پر صرف ہوتا ہے تو تمام ممبروں کے لیے فیس بڑھا دیتے ہیں اور اگر کم ہوتا ہے تو فیس کم کر دیتے ہیں، یہ صورت جائز ہے یا نہیں؟

Answer

میڈیکل انشورنس کی یہ صورت چونکہ اس کے کسی مرحلہ میں سود یا قمار نہیں اور بھی کوئی چیز خلافِ شریعت نہیں اس لیے امدادِ باہمی کی یہ صورت بلا کراہت جائز بلکہ مستحب ہے ۔ علماءِ کرام کی طرف سے انشورنس اور امدادِ باہمی کی جو جائز صورتیں مختلف مواقع پر تجویز کی گئی ہیں، ان میں سے ایک یہ بھی ہے، مسلمانوں کو انشورنس کی رائج الوقت حرام صورتوں کو چھوڑ کر جائز صورتیں اختیار کرنا چاہیے ۔ (ملخص از آپ کے مسائل اور ان کا حل: ٦/۲۵۷) ۔
امدادِ باہمی (تعاونی بیمہ) سے متعلق رابطہ عالم اسلامی، مکہ مکرمہ کی اسلامک فقہ اکیڈمی کا فیصلہ ملاحظہ فرمائیں:
اکیڈمی کا اجلاس باتفاقِ رائے سعودی عرب کے ہیئۃ کبار العلماء کے فیصلہ نمبر ۵۱ مؤرخہ ٤/٤/۱۳۹۷ ھ بابت تعاونی بیمہ کے جواز اور تجارتی بیمہ کی حرمت کی درجِ ذیل دلائل کی بنیاد پر تائید کرتا ہے:
اول: ۔ تعاونی بیمہ عقدِ تبرع کی ایک قسم ہے جس کا مقصودِ اصلی نقصانات کی تقسیم اور حوادثات کے مواقع پر ذمہ داری میں اشتراک ہے، اس کے لیے کچھ اشخاص نقد رقومات جمع کرتے ہیں اور نقصان رسیدہ شخص کا تعاون کرتے ہیں، تعاونی بیمہ گروہ کا مقصود نہ تجارت ہوتا ہے اور نہ دوسروں کے مال سے حصولِ نفع، بلکہ اپنے درمیان نقصانات کی تقسیم اور اس کی تلافی مقصود ہوتا ہے ۔
دوم: ۔ تعاونی بیمہ سود کی دونوں قسموں ربا الفضل اور ربا النسأ (زیادتی اور ادھار) سے خالی ہوتا ہے، اس کے حصہ داروں کا عقد نہ تو سودی ہوتا ہے اور نہ ہی جمع شدہ قسطوں کو سودی معاملات میں استعمال کیا جاتا ہے ۔
سوم: ۔ تعاونی بیمہ میں حاصل ہونے والی منفعت کی مقدار سے حصہ داروں کی عدمِ واقفیت بھی کوئی ضرر رساں نہیں ہے، کیوں کہ یہ لوگ عطیہ کرنے والے ہوتے ہیں، جہاں خطرہ، غرر اور قمار نہیں ہوتا، اس کے برعکس تجارتی بیمہ ایک مالی تجارتی معاوضہ ہوتا ہے ۔
چہارم: ۔ حصہ دار یا ان کے نمائندے جمع شدہ قسطوں کی سرمایہ کاری کر کے اس تعاون کے مقاصد کی تکمیل کرتے ہیں، سرمایہ کاری کرنے والے خواہ رضاکارانہ یہ کام انجام دیں یا کسی اجرت پر، اس میں کوئی حرج نہیں ۔
اجلاس کی رائے ہے کہ تعاونی بیمہ کی بابت تفصیلی مواد کی تیاری میں درجِ ذیل بنیادوں کی رعایت رکھی جائے:
۱ ۔ تعاونی بیمہ کی تنظیم کا ایک مرکزی آفس ہو جس کے تحت تمام شہروں میں اس کی شاخیں ہوں، اور تنظیم کے اندر علیحدہ علیحدہ نقصانات کی تلافی اور علیحدہ علیحدہ پیشوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے اعتبار سے علاحدہ شعبے ہوں، مثلاً شعبہ برائے صحت بیمہ (Health Insurance) شعبہ برائے معذورین و پیرانہ سالی بیمہ، وغیرہ ۔
۲ ۔ تعاونی بیمہ تنظیم انتہائی درجہ آسان و سہل ہو اور پیچیدہ طریقوں سے بالکل دور ہو ۔
۳ ۔ تنظیم کی ایک مجلس اعلی ہو جو طریقہ کار طے کرے اور ان لازمی ضوابط کی تجویز کرے جو شرعی قواعد سے ہم آہنگی کے بعد نافذ العمل ہوں ۔
٤ ۔ اگر نقصانات تنظیم کی آمدنی سے زائد ہو جائیں جو قسطوں میں اضافہ سبب بننے لگیں تو حکومت اور شرکاء اس اضافہ کو برداشت کریں ۔
المجمع الفقہی کا اجلاس مجلس ہیئۃ کبار العلماء کی تجویز اور اس کے اس احساس کی تائید کرتا ہے کہ تعاونی کمپنی کے لیے تفصیلی مواد کی تیاری ماہرین اور اصحابِ اختصاص کے ذریعہ کرائی جائے ۔ (عصر حاضر کے پیچیدہ مسائل کا شرعی حل، مرتب قاضی مجاہد الاسلام قاسمی صاحب رحمه الله، ص ۳۷ ۔ ٤۰) ۔
مزید ملاحظہ ہو: (اسلام اور جدید معاشی مسائل: ۷/۲۹۲، و جدید فقہی مسائل: ٤/۱۰۲) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.