جبری انشورنس کا حکم:
Question
آج کل کمپنیوں میں دستور ہے کہ وہ لوگ ملازمین کی تنخواہ میں سے ایک متعین رقم کاٹ لیتے ہیں یہ رقم لائف انشورنس کے فنڈ میں جمع کر دی جاتی ہے، ملازمین کی تنخواہ پر قبضہ کرنے سے پہلے کمپنی اس رقم کو از خود کاٹ لیتی ہے ملازم کو کوئی اختیار نہیں ہوتا اور ملازم کمپنی کے وضع شدہ قانون اور دستور کے مطابق مجبور ہے، اگر ملازم کا انتقال ہو جائے تو ایک بہت بڑی رقم ملازم کے ورثاء کو دی جاتی ہے جو اصل رقم سے بہت زیادہ ہوتی ہے کیا یہ رقم ورثاء کے لیے جائز ہے یا نہیں؟ نیز املاک وغیرہ کے جبری انشورنس کا کیا حکم ہے؟
Answer
موجود ہ دور میں جب کہ انشورنس کے بغیر ملازمتوں کا ملنا اور اگر ملازمت ہے تو اس کا باقی رہنا ناممکن سا ہو گیا ہے، اسی طرح آئے دن فسادات کی وجہ سے مسلمانوں کا جو مالی نقصان ہوتا ہے، نیز حکومت کے قانون کے مطابق ملازمتوں میں زندگی کا بیمہ لازم کر دیا گیا ہے جس کے بغیر یا تو ملازمت کا استحقاق نہیں ہوتا یا اگر ہوتا ہے تو بقاء و دوام نہیں رہتا اس لیے مجبوری کی صورت میں اس قسم کے انشورنس کی اجازت ہو گی چنانچہ بعض اہل علم نے اپنے فتاوی میں اس کی تصریح فرمائی ہے ۔ ہاں دل سے اس کو برا سمجھتے ہوئے توبہ اور استغفار بھی کرتا رہے ۔
پھر انشورنس کی وہ صورت جس میں از خود رقم جمع کرائی ہے اس پر جو زائد رقم حاصل ہو اس کو اپنے استعمال میں لانا درست نہیں بلکہ ثواب کی نیت کے بغیر فقراء پر صدقہ کر دیا جائے ۔ ہاں انشورنس کی وہ صورت جس میں کمپنی تنخواہ سے ایک حصہ ملازم کے اختیار کے بغیر کاٹ لیتی ہے اور پھر اس پر زائد رقم ادا کرتی ہے یہ سود نہیں ہے اس رقم کا استعمال جائز اور درست ہے ۔
فتاوی محمودیہ میں ہے:
بیمہ میں سود بھی ہے اور جو ابھی یہ دونوں چیزیں ممنوع ہیں، بیمہ بھی ممنوع ہے، لیکن اگر کوئی شخص ایسے مقام پر اور ایسے ماحول میں ہو کہ بغیر بیمہ کرائے جان و مال کی حفاظت ہی نہ ہو سکتی ہو، یا قانونی مجبوری ہو تو بیمہ کرانا درست ہے ۔ (فتاوی محمودیہ: ۱٦/۳۸۷، جامعہ فاروقیہ) ۔
دوسری جگہ مذکور ہے:
جب کہ بغیر کاروبار یا فیکٹری یا دوکان کے گزارہ دشوار ہے، اور اس پر یہ قانونی پابندی ہے تو مجبوراً اس بیمہ زندگی میں آدمی معذور قرار دیا جائے گا، تاہم جو رقم اس کے داخل کردہ رقم سے زائد ہے اس کو غرباء پر صدقہ کر دے اپنے کام میں نہ لائے ۔ (فتاوی محمودیہ: ۱٦/۳۹۰، جامعہ فاروقیہ) ۔
جدید فقہی مسائل میں ہے:
انشورنس کی وہ تمام صورتیں جن میں سرکاری قانون کے تحت انشورنس لازمی ہے جائز ہوں گی، جیسے بین ملکی تجارت میں درآمد و برآمد کے لیے، کہ اس میں انشور کرانے والے کے اختیار کو دخل نہیں ۔ (جدید فقہی مسائل: ٤/۱۲٤) ۔
امداد الفتاوی میں ہے:
تنخواہ کا کوئی جزو اس طرح وضع کرا دینا اور پھر یک مشت وصول کر لینا اگر چہ اس کے ساتھ سود کے نام سے کچھ رقم ملے یہ سب جائز ہے کیوں کہ در حقیقت وہ سود نہیں ہے اس لیے کہ تنخواہ کا جو جزو وصول نہیں ہوا وہ اس ملازم کی ملک میں داخل نہیں ہوا پس وہ رقم زائد اس کی مملوک شے سے منتفع ہونے پر نہیں دی گئی بلکہ تبرع ابتدائی ہے جو گورنمنٹ اس کو اپنی اصطلاح میں سود کہے ۔؟ (امداد الفتاوی: ۳/۱٤۹) ۔
جدید فقہی مباحث میں ہے:
گورنمنٹ وہ زائد رقم اگر چہ سود کے نام سے دیتی ہے لیکن سود کی تعریف تو اس وقت صادق آتی جب کہ ہم نے خود رقم جمع کی ہوتی اور اس پر مزید رقم ملتی لیکن یہاں تو گورنمنٹ نے ہمارے اختیار کے بغیر از خود رقم کاٹ کر جمع کر لی ہے جو ابھی ہمارے قبضہ و ملک میں بھی نہیں آئی، اور اس پر اضافہ کرتی ہے اس لیے اس رقم پر جو بھی اضافہ ہوگا وہ ہماری مملوک میں اضافہ نہ ہو گا بلکہ ابتدائی تبرع و انعام ہوگا ۔ (جدید فقہی مباحث: ٤/٤۸۵) ۔
نظام الفتاوی میں ہے:
سرکاری طور پر جبراً جو روپیہ حکومت بیمہ کے نام پر کاٹ لیتی ہے وہ روپیہ اور اس میں جتنا ملا کر دے وہ سب بھی ناجائز نہیں ہے، لے سکتے ہیں اور اپنے کام میں خرچ کر سکتے ہیں ۔ (نظام الفتاوی: ۲/۲۳٦) ۔
مزید ملاحظہ فرمائیں: (جدید فقہی مباحث: ٤/۲۳۷، و فتاوی عثمانی: ۳/۳۱٤، و جدید فقہی مسائل: ۱/٤۳۵، و احسن الفتاوی: ۷/ ۲۵) ۔
جبری انشورنس کے جواز کے چند عمومی دلائل ملاحظہ فرمائیں:
شریعت کا ایک بہت بڑا اصول یسر اور رفعِ حرج ہے:
قال الله تعالى: ﴿يريد الله بكم اليسر ولا يريد بكم العسر﴾ (سورة البقرة، الآية: ۱۸۵).
وقال تعالى: ﴿وما جعل عليكم في الدين من حرج﴾ (سورة الحج، الآية: ۷۸).
فقہ کے مسلمہ قواعد میں سے چند حسبِ ذیل درج ہیں:
"المشقة تجلب التيسير". (الأشباه والنظائر: ۱/ ۲۲٦).
"الضرورات تبيح المحظورات". (شرح المجلة، وقواعد الفقه، والأشباه،: ۱/ ۲۵۱).
"الحاجة تنزل منزلة الضرورة عامة أو خاصة". (الأشباه والنظائر: ۱/ ۲٦۷).
"وما حرم لذاته يباح للضرورة". (تفسير المنار لمحمد رشيد بن على رضا، ٦/ ۲۲۳).
"وما حرم سداً لذريعة يباح للحاجة". (تفسير المنار لمحمد رشيد بن على رضا، ٦/ ۲۲۳).
"إذا ضاق الأمر اتسع". (قواعد الفقه، ص ٦۲).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.