رٹائرمنٹ پالیسی کا حکم:

4 min readFatwa Vol 5 #207Urdu
Vol. 5كتاب البيوعبابِ: سودی مصارف کا بیان

Question

میت نے اپنی زندگی میں اپنے اختیار سے لائف انشورنس اور رٹائرمنٹ پالیسی اپنی بیوی کے نامزد کیا، اب انتقال کے بعد انشورنس کمپنی اس کی بیوی کو بڑی رقم دے گی، اور ماہانہ پنشن بھی ملتا رہے گا، کیا یہ معاملہ جائز ہے یا نہیں؟

Answer

لائف انشورنس اور رٹائرمنٹ پالیسی جس میں رقم کے عوض رقم ملتی ہے اور ساتھ میں اضافی رقم بھی ملتی ہے یہ سودی معاملہ ہے اور یہ ناجائز ہے، اس سے اجتناب کرنا لازم اور ضروری ہے، لیکن اگر غلطی سے یا جہالت یا فسق و فجور کی وجہ سے کسی نے ایسا عقد کر لیا تھا تو ادا کردہ رقم سے زائد بلا نیتِ ثواب صدقہ کر دیا جائے ۔ پھر یہ ادا کردہ رقم میت کے انتقال کے بعد اس کے جمیع ورثاء میں شرعی طریقہ پر تقسیم کی جائے گی، اور کمپنی کا ماہانہ پنشن تبرع کے حکم میں ہے اس کی گنجائش ہے ۔
جدید معاشی مسائل میں ہے:
زندگی کے بیمہ میں تین طریقے سے حرمت پائی جاتی ہے ۔
(۱) اس میں جمع شدہ رقم پر بطورِ سود زائد رقم ملتی ہے اس لیے حقیقۃً ربا اور سود میں داخل ہے ۔
(۲) جیون بیمہ اپنی صورت و شکل کے اعتبار سے قمار اور جوا ہے اس لیے کہ طالبِ بیمہ کا کب انتقال ہو جائے گا اور کتنی زائد رقم ملے گی اور اگر کسی مجبوری سے رقم جمع کرنے کا سلسلہ بند ہو جائے تو پچھلی جمع شدہ ساری رقم سوخت ہو جاتی ہے اور یہ سب امور از قبیل تعلیق الملک علی الخطر ہے جس کو شریعت میں قمار اور جوا کہا جاتا ہے ۔
(۳) انسان کی جان اور اعضاء اشیاء متقومہ میں سے نہیں ہیں اور شے غیر متقوم کا کوئی عوض نہیں ہوا کرتا ہے اور اگر بالفرض عوض مقرر کیا جائے تو وہ عوض نہیں ہوتا بلکہ صورۃً رشوت ہوتی ہے اور رشوت بھی بحکمِ خبر حرام اور باعثِ عذاب ہے ۔ لہذا ان وجوہ حرمت کی بنا پر جیون بیمہ قطعی ناجائز اور حرام ہے اور اس کے لیے اسلامی شریعت میں کوئی وجہ جواز نہیں ہے ۔ (جدید معاشی مسائل، ص ۹۳، بحوالہ امداد الفتاوی: ۳/۱٦۱، فتاوی رحیمیہ: ۲/۲۰۰، فتاوی محمودیہ: ٦/۳۰۸، کفایت المفتی: ۸/۷٦، آپ کے مسائل اور ان کا حل: ٦/۲۵۵، جدید فقہی مسائل: ۱/۲٦۰، نظام الفتاوی: ۱/۱۹۲) ۔
مجموعہ قوانین اسلامی میں ہے:
پراویڈنٹ فنڈ، لائف انشورنس، کوآپریٹو سوسائٹی جیسے معاملات میں ان کے ضوابط کے مطابق اگر کسی شخص نے اپنی رقم کے لیے دوسرے کو نامزد کر دیاتو نامزد شخص خواہ وارث ہو یا غیر وارث، اس کی حیثیت نہ موصی لہ کی ہو گی اور نہ موہوب لہ کی، بلکہ صرف امین کی ہو گی، لہذا نامزد کرنے والے شخص کی جمع کردہ اور وضع شدہ رقم اس کی موت کے بعد حسبِ سہامِ شرعی اس کے وارثوں میں تقسیم ہو گی، اور سود کی رقم بلا نیتِ ثواب فقراء کو دے دینا ضروری ہوگا، اسی طرح نامزد کرنے والے شخص کی جان یا مال ضائع ہو جانے کی صورت میں معاوضہ میں ملی ہوئی رقم اس کے وارثوں میں حسبِ سہامِ شرعی تقسیم ہو گی ۔ (مجموعہ قوانین اسلامی، مرتب مولانا قاضی مجاہد الاسلام صاحب قاسمی رحمه الله، ص۲۵۵، دفعہ ۱۰) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.