تعلیمی پالیسی کا حکم:
Question
مرحوم نے اپنی بیٹی کی تعلیم کے لیے انشورنس نکالا، ماہانہ متعین رقم انشورنس کمپنی کو دیتا ہے، جب بیٹی کی عمر ۲۵ سال کو پہنچ جائے گی تو اس کو مال کی بڑی رقم کمپنی کی طرف سے ملے گی، کیا بڑی رقم کا لینا اور تعلیمی فیس وغیرہ میں ادا کرنا جائز ادا کرنا جائز ہوگا یا نہیں؟
Answer
تعلیمی انشورنس میں بھی رقم کے عوض رقم مع اضافہ ملتی ہے لہذا یہ سودی معاملہ ہے اور یہ ناجائز ہے، صرف ادا کردہ رقم لینا اور استعمال کرنا جائز ہے بقیہ اضافی، سودی رقم بلا نیت ثواب صدقہ کر دیا جائے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.