امدادی فنڈ کا حکم:
Question
سوال: ہمارے ہاں عورتوں میں یہ طریقہ رائج ہے کہ ۵۰ عورتیں دو سو روپے فی نفر ایک عورت کے پاس جمع کراتی ہیں، اور ہر ماہ قرعہ اندازی کے ذریعے وہ رقم ایک عورت کو مل جاتی ہے پھر دوسرے ماہ دوسری کو اس طرح ہر ایک کو ملتا ہے کوئی محروم نہیں رہتی، اس میں سود بھی نہیں بلکہ جتنی رقم لی ہے اتنی رقم آئندہ جمع کرتی ہے، کیا یہ شکل بنگاہِ شریعت جائز ہے یا نہیں؟
Answer
صورتِ مسئولہ صرف جائز ہی نہیں بلکہ اولی اور بہتر ہے، اس کی حیثیت ایک دوسرے کو قرض دے کر مالی تعاون کی ہے، یعنی جس عورت کا نام سب سے پہلے نکل آیا گویا اس کو دوسری عورتوں نے قرض دے کر تعاون کیا، آپس میں ایک دوسرے کا تعاون کرنے کے فضائل قرآن اور احادیث میں بے شمار موجود ہیں ۔ بطورِ "مشتے نمونہ از خروارے" چند حسبِ ذیل درج ہیں:
قال الله تعالى: ﴿وتعاونوا على البر والتقوى﴾ (سورة المائدة، الآية: ۲).
قال الإمام القرطبي رحمه الله: وهو أمر لجميع الخلق بالتعاون إلى البر والتقوي؛ أي ليعِن بعضكم بعضاً
وقال الماوردي رحمه الله: ندب الله سبحانه وتعالى إلى التعاون بالبر وقرنه بالتقوي له ؛ لأن في التقوي رضا الله تعالى، وفي البر رضا الناس، ومن جمع بين رضا لله تعالى ورضا الناس فقد تمت سعادته وعمت نعمته،
والتعاون على البر والتقوى يكون بوجوه ؛ فواجب على العالم أن يعين الناس بعلمه فيعلمهم، ويعينهم الغني بماله، والشجاع بشجاعته في سبيل الله، وأن يكون المسلمون متظاهرين كاليد الواحد "المؤمنون تتكافأ دماؤهم ويسعى بذمتهم أدناهم وهم يد على من سواهم". (الجامع لأحكام القرآن: ٦/۳۳).
وقال ابن كثير رحمه الله: يأمر تعالى عباده المؤمنين بالمعاونة على فعل الخيرات وهو البر وترك المنكرات وهو التقوى
عن أنس رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: "انصر أخاك ظالماً أو مظلوماً" قيل: يا رسول الله هذا نصرته مظلوماً، فكيف انصره ظالماً؟ قال: "تمنعه من الظلم فذاك نصرك إياه". (تفسير ابن كثير: ۲/۷).
حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمه الله فرماتے ہیں:
قرآنِ حکیم نے ایک ایسے اصول اور بنیادی مسئلہ کے متعلق ایک حکیمانہ فیصلہ دیا ہے جو پورے نظامِ عالم کی روح ہے، اور جس پر انسان کی ہر صلاح و فلاح بلکہ خود اس کی زندگی اور بقا موقوف ہے وہ مسئلہ ہے باہمی تعاون و تناصر کا، اس دنیا کا پورا نظام انسانوں کے باہمی تعاون و تناصر پر قائم ہے، اگر ایک انسان دوسرے انسان کی مدد نہ کرے تو کوئی اکیلا انسان خواہ وہ کتنا ہی عقلمند یا کتنا ہی زور آور یا مال دار ہو، اپنی ضروریاتِ زندگی کو تنہا حاصل نہیں کر سکتا ۔ (معارف القرآن: ۳/۲۰) ۔
قال الله تعالى: ﴿وافعلوا الخير لعلكم تفلحون﴾.
وعن ابن عمر رضي الله عنه أن رسول الله ﷺ قال: المسلم أخو المسلم لا يظلمه ولا يسلمه، من كان في حاجة أخيه كان الله في حاجته، ومن فرج عن مسلم كربة فرج الله عنه بها كربة من كرب يوم القيامة، ومن ستر مسلماً ستر الله يوم القيامة، متفق عليه.
وعن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي ﷺ قال: "من نفس عن مؤمن كربة من كرب الدنيا، نفس الله عنه كربة من كرب يوم القيامة، ومن يسر على معسر يسر الله عليه في الدنيا والآخرة، ومن ستر مسلماً ستره الله في الدنيا والآخرة، والله في عون العبد ما كان العبد في عون أخيه
(رياض الصالحين: ۱/٦۰۵، باب قضاء حوائج المسلمين، دار السلام).
کتاب الفتاوی میں ہے:
چند افراد مل کر ماہانہ متعینہ رقم ادا کریں اور قرعہ اندازی کے ذریعہ چٹھی کے شرکاء میں سے جس کا نام نکل آئے اس کو دے دی جائے، اس طرح باری باری تمام لوگوں کو پوری رقم یک مشت حاصل ہو جائے، جیسے دس آدمی دس دس ہزار روپے ماہانہ چٹھی میں دیں، اور ہر ماہ شرکاء میں سے ایک کو یک مشت ایک لاکھ روپے مل جائیں، یہ صورت جائز ہے، اس کی حیثیت ایک دوسرے کو قرض دینے کی ہے، یعنی جس شخص کی چٹھی پہلی بار میں اٹھ گئی، گویا اس کو نو ساتھیوں نے نوے ہزار روپے قرض دیا، یہ صورت نہ صرف جائز، بلکہ بہتر ہے، اور اس کے ذریعہ معاشی خود کفالت میں مدد مل سکتی ہے ۔ (کتاب الفتاوی: ۵/۳٤۳) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.