مچھلی پکڑنے پر انعام کا حکم:

3 min readFatwa Vol 5 #217Urdu
Vol. 5كتاب البيوعباب: جوا اور رشوت کے احکام

Question

ایک سمندر کے ساحل پر ایک جگہ بنائی گئی ہے، اس میں مچھلیوں کے پکڑنے کا مقابلہ ہوتا ہے اور داخل ہونے والوں سے فیس لی جاتی ہے، پھر جس نے بڑی مچھلی پکڑی اس کو نمبر وار انعامات اسی جمع شدہ رقم سے دیے جاتے ہیں، کیا یہ طریقہ جائز ہے یا نہیں؟ اور انعام لینا درست ہو گا یا نہیں؟ جب کہ بعض محروم بھی ہوتے ہیں ۔ بینوا توجروا ۔

Answer

بصورتِ مسئولہ یہ طریقہ قمار اور جوا میں داخل ہونے کی وجہ سے ممنوع اور ناجائز ہے ۔
ملاحظہ ہو علماء نے قمار کی تعریف درجِ ذیل الفاظ میں بیان فرمائی ہے:
التعریفات الفقہیہ میں ہے:

القمار مصدر قامر هو كل لعب يشترط فيه غالباً أن يأخذ الغالب شيئاً من المغلوب، وأصله أن يأخذ الواحد من صاحبه شيئاً فشيئاً في اللعب ثم عرفوه بأنه تعليق الملك على الخطر والمال في الجانبين. (التعريفات الفقهية، ص ۱۷۷، وجواهر الفقه: ۲/۲۲۷، وإمداد الفتاوى: ۳/۱٦۱).

فتاوی شامی میں ہے:

وسمي القمار قماراً لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه، وهو حرام بالنص. (رد المحتار: ٦/٤۰۳، كتاب الحظر والإباحة، سعيد).

احسن الفتاوی میں ہے:
سوال: ہلال احمر ایک پاکستانی ادارہ ہے جو پانچ روپے اور تین روپے کی ٹکٹیں فروخت کرتا ہے اور جمع شدہ رقم سے ہر ماہ تین لاکھ اور ڈیڑھ لاکھ روپے انعام کی صورت میں تقسیم کرتا ہے یہ ٹکٹیں خرید کر انعام لینا جائز ہے یا نہیں؟
الجواب: یہ سود اور جوا کا مجموعہ ہے، اس لیے حرام ہے ۔ (احسن الفتاوی: ۷/۲٦) ۔
تقریر ترمذی میں ہے:
غرر کی تیسری صورت ہے
"تعليق التمليك على الخطر"
یعنی تملیک کو کسی ایسے واقعے کے ساتھ معلق کرنا جس کے وجود میں آنے اور نہ آنے دونوں کا احتمال ہو اس لیے یہ معاملہ درست نہیں اس کو تعلیق التملیک علی الخطر کہا جاتا ہے، اور اس کو قمار بھی کہا جاتا ہے، اس لیے کہ "قمار" میں بھی ایک طرف سے پیسوں کی ادائیگی یقینی ہوتی ہے، جب کہ دوسری طرف سے اس کا عوض یقینی نہیں ہوتا، بلکہ محتمل ہوتا ہے، اس لیے "قمار" بھی غرر میں داخل ہے ۔ (تقریر ترمذی: ۱/۹۷، و اسلام اور جدید معاشی مسائل: ٤/۷٦) ۔
ہاں اگر وہاں لوگوں کے بیٹھنے اور کھانے پینے اور کچھ مشروبات وغیرہ کا انتظام کیا جائے تو پھر رقم اس انتظام کے عوض ہو کر داخلہ فیس قرار دی جائے گی اور پھر اول دوم سوم آنے والوں کو انعام دیا جائے تو اس میں بظاہر کوئی حرج نہیں ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.