تبلیغی حضرات پر اعتراض اور اس کا جواب:

3 min readFatwa Vol 1 #210Urdu
Vol. 1كتاب السلوك والطريقةباب ٣: دعوت و تبلیغ کا بیان

Question

بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں اللہ تعالی کا فرمان
﴿كنتم خير أمة اخرجت للناس﴾
میں
"للناس"
عام ہے مسلمان اور کفار سب کو شامل ہے پھر تبلیغ والے کیوں صرف مسلمان کے پاس جاتے ہیں اور کفار کے پاس نہیں جاتے ہیں؟

Answer

اول تو یہ کہ تبلیغی حضرات نے اس تبلیغ کے عظیم کام کو صرف مسلمانوں کے لیے خاص نہیں کیا بلکہ ان کی چلت پھرت اور اس کام کی برکت سے بے شمار غیر مسلموں کو اللہ تعالی نے ایمان جیسی عظیم دولت سے سرفراز فرمایا بالفرض اگر ہم مان لیں کہ کفار کے پاس نہیں جاتے تو بھی ان کا مسلمانوں کے پا س جانا اور کفار کے پا س نہ جانا یہ آیتِ کریمہ کے خلاف نہیں ہے، بلکہ اس عمل کے ثبوت میں بہت ساری احادیث موجود ہیں مثلاً نبی کریم ﷺ نے حضرت معاذ بن جبل رضي اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا، نیز صحابہ کی جماعت کوفہ کی طرف گئی مسلمانوں کی دعوت کے لیے اسی طرح حضرت عمر رضي اللہ عنہ نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضي اللہ عنہ کو صحابہ کی جماعت کے ساتھ اپنی خلافت کے زمانے میں کوفہ کی طرف روانہ فرمایا اور معقل بن یسار، عبد اللہ بن مغفل اور عمران بن حصین بصرہ کی طرف تشریف لے گئے اور عبادہ بن صامت اور ابو الدرداء رضي اللہ عنہ شام کی طرف گئے اہلِ اسلام اور مسلمانوں کی دعوت کے لیے تھا ۔
نیز مسلمانوں میں دعوت و تبلیغ کا فائدہ بنسبت غیر مسلموں کے جلدی ظاہر ہو جاتا ہے
﴿عبس وتولي أن جاءه الأعمى﴾
میں اس طرف اشارہ موجود ہے کہ ابن ام مکتوم کا لحاظ رکھنا قریش کے متکبر سرداروں کے مقابلے میں بہتر اور مفید ہے ۔
اس کے باوجود اگر کسی کو اشکال ہو تو ان حضرات نے کسی کو روکا تو نہیں ہر ایک اپنے طور پر جا سکتا ہے کفار کے پاس اور تبلیغ کر سکتا ہے راستہ کھلا ہے کوئی روک ٹوک نہیں ہے، لہذا ان حضرات کو متہم کرنا صحیح نہیں ہے ۔
تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو:
(فتاوی محمودیہ: ۱/٤۵۲، و فتاوی رحیمیہ: ٦/۳۸۱، جماعت تبلیغ پر اعتراضات کے جوابات ص ۱۲، و دینی دعوت اور تبلیغ کے اصول و احکام، و منتخب احادیث) ۔

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.