خواتین کے تبلیغی سفر پر اعتراض اور اس کا جواب:

4 min readFatwa Vol 1 #216Urdu
Vol. 1كتاب السلوك والطريقةباب ٣: دعوت و تبلیغ کا بیان

Question

اعتراض: بعض لوگ کہتے ہیں کہ عورتوں کا تبلیغی جماعت میں جانا صحیح نہیں ہے اور یہ آیتِ کریمہ
﴿وقرن في بيوتكن﴾
دلیل میں پیش کرتے ہیں، اس کا کیا جواب ہے؟ نیز آیتِ کریمہ کا صحیح معنی کیا ہے؟

Answer

آیتِ کریمہ
﴿وقرن في بيوتكن﴾
کا مطلب یہ ہے کہ "وقرن في بيوتكن واخرجن لحاجة ولكن لا تخرجن متبرجات بزينة" یعنی بوقتِ حاجت نکلنے کی اجازت تو ہے لیکن اپنے بناؤ سنگار کو ظاہر کر کے نکلنے کی ممانعت ہے، اور یہ معنی خود آیتِ کریمہ کے بعد والے حصہ سے ظاہر ہے اور تبلیغِ دین سے زیادہ ضرورت اس زمانہ میں کیا ہو سکتی ہے؟
ملاحظہ ہو حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

﴿وقرن في بيوتكن﴾
میں عورتوں پر قرار فی البیوت واجب کیا گیا، جس کا مفہوم یہ ہے کہ عورتوں کے لیے گھر سے باہر نکلنا مطلقاً ممنوع اور حرام ہو، مگر اول تو خود اسی آیت
"ولا تبرجن"
سے اس طرف اشارہ کر دیا گیا کہ مطلقاً خروج بضرورت ممنوع نہیں، بلکہ وہ خروج ممنوع ہے جس میں زینت کا اظہار ہو، دوسرے سورۂ احزاب کی آیت جو آگے آ رہی ہے، اس میں خود
﴿يدنين عليهن من جلابيبهن﴾
کا حکم یہ بتلا رہا ہے کہ کسی درجہ میں عورتوں کے لیے گھر سے نکلنے کی اجازت بھی ہے، بشرطیکہ برقع وغیرہ کے پر دہ کے ساتھ نکلیں ۔
اس کے علاوہ خود رسول اللہ ﷺ نے مواضعِ ضرورت کا اس حکم سے مستثنی ہونا ایک حدیث میں واضح فرما دیا، جس میں ازواجِ مطہرات کو خطاب کر کے فرمایا
: "قد أذن لكنّ أن تخرجن لحاجتكن" (رواه مسلم، رقم: ۲۱۷۰)
یعنی تمہارے لیے اس کی اجازت ہے کہ اپنی ضرورت کے لیے گھر سے نکلو، پھر رسول اللہ ﷺ کا عمل آیت حجاب نازل ہونے کے بعد اس پر شاہد ہے کہ ضرورت کے مواقع میں عورتوں کو گھروں سے نکلنے کی اجازت ہے، جیسا کہ حج و عمرہ کے لیے آنحضرت ﷺ کے ساتھ جانا احادیثِ صحیحہ سے ثابت ہے، اسی طرح بہت سے غزوات میں ساتھ جانا ثابت ہے، اور بہت سی روایات سے یہ بھی ثابت ہے کہ ازواجِ مطہرات رضي اللہ عنہ اپنے والدین وغیرہ سے ملاقات کے لیے اپنے گھروں سے نکلتی تھیں اور عزیزوں کی بیمار پرسی اور تعزیت وغیرہ میں بھی شرکت کرتی تھیں، صرف یہی نہیں بلکہ حضور

ﷺ

کی وفات کے بعد بھی ازواجِ مطہرات رضي اللہ عنہ کا حج و عمرہ کے لیے جانا ثابت ہے ۔
خلاصہ یہ ہے کہ آیت
﴿وقرن في بيوتكن﴾
کے مفہوم سے باشاراتِ قرآن اور بعملِ نبی کریم ﷺ اور باجماعِ صحابہ رضي اللہ عنہ مواقعِ ضرورت مستثنی ہیں، جن میں عبادات حج و عمرہ بھی داخل ہیں، اور ضروریاتِ طبعیہ والدین اور اپنے محارم کی زیارت، عیادت وغیرہ بھی، اسی طرح اگر کسی کے نفقہ اور ضروریاتِ زندگی کا کوئی اور سامان نہ ہو تو پر دہ کے ساتھ محنت مزدوری کے لیے نکلنا بھی، البتہ مواقعِ ضرورت میں خروج کے لیے شرط یہ ہے کہ اظہارِ زینت کے ساتھ نہ نکلیں، بلکہ برقع با جلباب (بڑی چادر) کے ساتھ نکلیں ۔ (معارف القرآن: ۷/۱۳۳ ۔ ۱۳۵، ادارۃ المعارف، کراچی) ۔
روح المعانی میں ہے:

وهو لا ينافي لخروجهن للحج أو لما فيه مصلحة دينية مع التستر وعدم الابتذال. (روح المعاني: ۲۲/۹، القاهرة).

تفسیر ابن کثیر میں ہے:

فلا تخرجن بغير حاجة. (تفسير ابن كثير: ۳/۵۳۱، بيروت)

تفسیر بدیع میں ہے:

فلا تخرجن بغير حاجة شرعية. (التفسير البديع، تحت الآية: وقرن في بيوتكن، رحيم يارخان).

مزید ملاحظہ فرمائیں: بیان القرآن: ۹/٤٦ ۔ و احکام القرآن: ۳/۳۱۷، ادارۃ القرآن ۔

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.