کیا تبلیغی حضرات نہی عن المنکر نہیں کرتے؟
Question
بعض حضرات تبلیغی جماعت پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اس میں نہی عن المنکر نہیں پائی جاتی جب کہ قرآن کریم اور احادیث کی روشنی میں نہی عن المنکر بھی دین کا ایک اہم کام ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے:
﴿ولتكن منكم أمة يدعون إلى الخير ويأمرون بالمعروف وينهون عن المنكر وأولائك هم المفلحون﴾
اور
﴿كنتم خير أمة أخرجت للناس تأمرون بالمعروف وتنهون عن المنكر وتؤمنون بالله﴾
اور حدیث میں ہے: "
والله لتأمرن بالمعروف ولتنهون عن المنكر أو ليوشك أن يبعث الله عليكن عذاباً من عنده ثم لتدعونه فلا يجابون أو كما قال عليه السلام
۔ اس کا کیا جواب ہے؟
Answer
نہی عن المنکر کی اقسام ہیں مختصراً بیان کی جاتی ہیں:
(۱) النهي عن المنكر تبعاً للأمر بالمعروف أو بواسطته.
نہی عن المنکر ایک اصلاً ہوتی ہے دوسری تبعاً، اربابِ دعوت و تبلیغ نہی عن المنکر کو ضمناً و تبعاً انجام دیتے ہیں، مثلاً یوں کہتے ہیں مسجد میں چلو مسجد میں جانے سے لوگ خود بخود بے شمار منکرات سے رک جاتے ہیں، منکرات کی مثال ظلمات کی سی ہے اور معروفات روشنی کی طرح ہیں روشنی کے وجود سے ظلمت و تاریکی خود بخود ختم ہو جاتی ہے ۔
یا بالفاظِ دیگر یوں کہ سکتے ہیں کہ نہی عن المنکر ایک بلاواسطہ مباشرۃً ہے اور دوسری بالواسطہ، اہل تبلیغ بالواسطہ نہی عن المنکر تبعاً کرتے ہیں، مثلاً تبلیغ والے نماز کی طرف بلاتے ہیں اور نماز انسان کو منکرات و فحاشی سے روکتی ہے ۔
قال الله تعالى: ﴿إن الصلاة تنهي عن الفحشاء والمنكر﴾
نیز کلمہ طیبہ، ایمان و یقین اور اخلاص کی دعوت دیتے ہیں جو کہ انسان کو معاصی و منکرات سے روکتے ہیں ۔
حدیث میں ہے:
عن زيد بن أرقم قال: قال رسول الله ﷺ: "من قال لا إله إلا الله مخلصاً دخل الجنة قيل وما إخلاصها قال: أن تحجزه عن محارم الله عز وجل. (المعجم الأوسط للطبراني، رقم: ۱۲۵۷، وفي إسناده محمد بن عبد الرحمن بن غزوان، وهو وضاع).
(۲) النهي عن المنكر بواسطة العلماء.
احوال و طبائع سے عدمِ واقفیت کی بنا پر یہ لوگ عموماً اس علاقہ کے علماء یا مقتدیٰ حضرات کو مطلع فرماتے ہیں تاکہ وہ اسلوبِ حکیم کے ساتھ ان لوگوں میں نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیں ۔
(۳) النهي عن المنكر على سبيل العموم.
نہی عن المنکر ایک انفرادی طور پر ہوتی ہے دوسری عمومی اور اجتماعی طور پر تبلیغ والے حضرات عمومی اور اجتماعی طور پر نہی عن المنکر کرتے ہیں، مثلاً کسی علاقہ کے لوگوں میں بعض منکرات ہوں تو مسجد میں عمومی خطاب میں ان منکرات پر متنبہ فرماتے ہیں، حضور ﷺ نے بے شمار مواقع پر اسی طریقہ کو اپنایا ہے ۔
(٤) بعض مصالح کی وجہ سے مؤخر کرنا ۔ (
تأخير النهي عن المنكر لمصالح متعددة في حق المبتدي)
غافل انسانوں کے قلوب کو امر بالمعروف و فضائل اور بشارتوں سے مانوس کرتے ہیں، تاکہ آئندہ نہی عن المنکر قبول کرنے کی استعداد و صلاحیت پیدا ہو ورنہ ابتدا ہی سے نہی عن المنکر کرنے سے نفرت پیدا ہونے کا قوی اندیشہ ہے ۔ قرآنِ کریم میں جابجا امر بالمعروف نہی عن المنکر پر مقدم ہے، بشیر نذیر پر مقدم ہے، احادیث میں "
يسرا ولا تعسرا بشرا ولا تنفرا". (متفق عليه)
کے الفاظ آتے ہیں، اس ترتیب کا لحاظ رکھتے ہیں ۔
(۵) نہی عن المنکر کے درجات ہیں، ہر شخص اپنی وسعت و علم کے مطابق انجام دینے کا مکلف ہے ۔
عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول: "من رأى منكم منكراً فليغره بيده، فإن لم يستطع فبلسانه، فإن لم يستطع فبقلبه وذلك أضعف الإيمان". (رواه مسلم برقم: ۷۸).
وعن ابن مسعود رضي الله عنه أن رسول الله ﷺ قال: ما من نبي بعثه الله في أمة قبلي إلا كان له من أمته حواريون وأصحاب يأخذون بسنته ويقتدون بأمره، ثم إنها تخلف من بعدهم خلوف يقولون ما لا يفعلون، ويفعلون ما لا يؤمرون، فمن جاهدهم بيده فهو مؤمن، ومن جاهدهم بقلبه فهو مؤمن، ومن جاهدهم بلسانه فهو مؤمن، وليس وراء ذلك من الإيمان حبة خردل. (رواه مسلم برقم ۸۰).
قوله بقلبه أي: ينكره؛ بأن يكره ذلك، ويعزم أن لو قدر على إزالته بقول أو فعل فعل.
مذکورہ بالا دونوں حدیثوں میں نہی عن المنکر کے درجات بیان کیے گیے ہیں: (۱) پہلا درجہ تغییر بالید امراء و سلاطین کر سکتے ہیں ۔ (۲) دوسرا درجہ تغییر باللسان علماء اور مقتدی حضرات انجام دیں گے ۔ (۳) تیسرا درجہ تغییر بالقلب عوام الناس کا ہے ۔ کیونکہ ان کے پاس نہ تو دبدبہ ہے جس کے ذریعہ ہاتھ استعمال کرے اور نہ تو قرآن و احادیث کا علم ہے جس کے ذریعہ دلائل و براہین پر قادر ہوں، لہذا سلامتی اسی میں ہے کہ دل سے برا سمجھے ۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
باليد على الأمراء وباللسان على العلماء وبالقلب لعوام الناس وهو اختيار الزندويستي، كذا في الظهيرية. (الفتاوى الهندية: ۵/۳۵۳).
وقال إمام الحرمين: إن الحكم الشرعي إذا استوي في إدراكه الخاص والعام ففيه للعالم وغير العالم الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر وإذا اختص مدركه بالاجتهاد فليس للعوام فيه أمر ونهي، بل الأمر فيه موكول إلى أهل الاجتهاد. (شرح المقاصد في علم الكلام للتفتازاني: ۲/۲٤٦).
وفي التحرير والتنوير: والمعروف والمنكر إن كانا ضروريين كان لكل مسلم أن يأمر وينهي فيهما، وإن كانا نظريين فإنما يقوم بالأمر والنهي فيهما أهل العلم. (التحرير والتنوير: ۳/۱۸۲).
(٦) ترك النهي عن المنكر لإمكان تأديته إلى مفسدة أعظم منه؛
تبلیغ میں عام طور پر عامی اَن پڑھ ہوتے ہیں جو نہی عن المنکر کے اسلوب اور طریقہ سے ناواقف ہوتے ہیں، اس وجہ سے ان کے نہی عن المنکر انجام دینے سے مفسدہ کا خطرہ ہے، اس لیے نہی عن المنکر سے منع کیا جاتا ہے ۔
اضواء البیان میں ہے:
يشترط في جواز الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر ألا يودي إلى مفسدة أعظم من ذلك المنكر، لإجماع المسلمين على ارتكاب أخف الضررين. (أضواء البيان: ٦/۲٤۲).
وفي تفسير روح البيان: وكذا الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر فإنه يجب على الآمر والناهي معرفة أحوال الناس وعاداتهم وطبائعهم ومذاهبهم لئلا يكون فتنة للناس وتهييجاً للشر وسبباً لزيادة المنكر وإشاعة المكروه. (روح البيان: ٤/۲٤۳).
شرح رياض الصالحين
میں ہے:
الشرط الثالث: ألا يزول المنكر إلى ما هو أعظم منه، فإن كان هذا المنكر لو نهينا عنه زال إلى ما هو أعظم منه، فإنه لا يجوز أن ننهي عنه، درءاً لكبري المفسدتين بصغراهما، لأنه إذا تعارض عندنا مفسدتان وكانت إحداهما أكبر من الأخرى، فإننا نتقي الكبرى بالصغرى فالمهم أنه يشترط لوجوب الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر ألا يتضمن ذلك ما هو أكبر ضرراً وأعظم إثماً، فإن تضمن ذلك فإن الواجب دفع أعلي المفسدتين بأدناهما، ودفع أكبرهما بأصغرهما، وهذه قاعدة مشهورة معروفة عند العلماء. (شرح رياض الصالحين: ۱/٤۸۵).
(۷) تبلیغ والوں نے امر بالمعروف کی ذمہ داری لی ہے، معترضین حضرات خود ایک جماعت کو تیار کریں جو نہی عن المنکر کی ذمہ داری اٹھائے، تبلیغ والوں پر لازم نہ کریں، دین کے تمام کام تبلیغ والے نہیں کریں گے، دوسرے لوگ بھی کچھ کریں ۔
نیز جو علماء نہی عن المنکر کے علم بردار بنے ہوے ہیں انہوں نے نہی عن المنکر کی ایک مختصر فہرست بنائی ہے جس جگہ جاتے ہیں بس اسی کو بیان کرتے ہیں وہ خود بے شمار منکرات کو نہیں روکتے بس چند منکرات کو سامنے رکھتے ہوے نہی عن المنکر کی آواز بلند کرتے ہیں ۔
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.