شے مستعار کے نقصان کی تلافی کا حکم:

3 min readFatwa Vol 5 #254Urdu
Vol. 5كتاب البيوععاریت اور امانت کے احکام

Question

زید نے عمر کی کار بطورِ عاریت استعمال کے لیے لی، استعمال کے دوران کچھ نقص واقع ہوا، کیا زید پر نقصان کی تلافی لازم ہے یا نہیں؟ اور قصداً کیا ہو یا بغیر قصد کے نقص واقع ہوا ہو دونوں میں کوئی فرق ہوگا یا نہیں؟ نیز متعین مقدار سے زیادہ تیز چلانے کی وجہ سے نقصان واقع ہوا ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟

Answer

بصورتِ مسئولہ زید نے کار معروف طریقے پر استعمال کی اور بلا تعدی کچھ نقصان ہو گیا تو زید اس کا ذمہ دار نہیں، اس پر تاوان نہیں آئے گا، ہاں اگر معروف طریقے سے تجاوز کیا اور تعدی کی تو زید اس کا ذمہ دار ہوگا، اسی طرح متعین رفتار سے زیادہ تیز چلائی اور قوانین کی مخالفت کی اور کوئی خرابی واقع ہو گئی تب بھی زید پر تاوان آئے گا۔
عالمگیری میں ہے:

وأما حكمها (العارية) فهو ملك المنفعة للمستعير بغير عوض أو ما هو ملحق بالمنفعة عرفاً وعادة ً عندنا كذا في البدائع، والعارية أمانة إن هلكت من غير تعد لم يضمنها

ولو تعدي ضمن بالإجماع نحو أن يحمل عليها ما يعلم أنها لا تحمل مثله وكذلك إذا استعملها ليلاً أو نهاراً فيما لا يستعمل فيه الدواب في العرف والعادة، فعطبت ضمن قيمتها كذا في غاية البيان. (الفتاوى الهندية: ٤/۳٦۳، كتاب العارية).

شرح عنایہ میں ہے:

إن هلكت العارية، فإن كان بتعد كحمل الدابة ما لا يحمله مثلها أو استعمالها استعمالاً لا يستعمل مثلها من الدواب أوجب الضمان بالإجماع. (شرح العناية على هامش فتح القدير: ۹/۷، كتاب العارية، دار الفكر).

اسلامی فقہ میں ہے:
اگر معیر نے وقت، جگہ یا طریقہ استعمال کی کوئی قید نہ لگائی ہو، تو مستعیر کو اختیار ہے کہ وہ جس وقت تک چاہے اور جس طرح چاہے استعمال کرے، اس صورت میں اگر کوئی نقصان ہوگا تو مستعیر پر کوئی ذمہ داری نہیں ہے، لیکن اگر عام طور پر جس طرح وہ چیز استعمال کی جاتی ہے، اس کے خلاف استعمال کرے گا، تو اجازت کے باوجود تاوان دینا پڑے گا، مثلاً کسی نے کسی سے سائیکل یا موٹر عاریۃً لی، اس کو مجمع میں بے تحاشا یا اس رفتار سے زیادہ تیز چلانا شروع کر دیا، جو عام طور پر اس کی مقرر ہے، اور وہ ٹکرا گئی تو اس کے نقصان کی ذمہ داری مستعیر پر ہوگی، اسی طرح اس سے ٹکرا کر جس دوسری چیز کا نقصان ہوگا، اس کی ذمہ داری بھی اسی پر ہو گی، مثلاً کسی کو چوٹ لگ گئی، یا کسی کا مالی نقصان ہو گیا تو اس کا تاوان اسی کو دینا پڑے گا۔ (اسلامی فقہ: ۲/٤۹۸، عاریت کا حکم)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.