مستعار مکان کو اجرت پر دینے کا حکم:
Question
بکر نے خالد کو ایک مکان بطورِ عاریت رہنے کے لیے دیا، خالد نے مکان کے دو حصے کیے ایک حصہ میں وہ خود رہتا ہے اور دوسرا حصہ کرایہ پر دیا، اور ماہانہ کرایہ وصول کرتا ہے، کیا اس طرح کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اور کرایہ کا حقدار کون ہے؟ بینوا توجروا۔
Answer
بصورتِ مسئولہ خالد کے لیے جائز نہیں ہے کہ بلا اجازت مکان مستعار اجرت پر دے، یہ اجارہ صحیح نہیں ہے، اور اجرت واجب التصدق ہو گی، ہاں اگر بکر نے کرایہ پر دینے کی اجازت دی ہے تو پھر جائز اور درست ہے۔
ملاحظہ فرمائیں عالمگیری میں ہے:
ليس للمستعير أن يؤاجر المستعار من غيره وإن كانت الإعارة تمليكاً عندنا كذا في الظهرية، فإن آجر فعطب ضمن حين سلمه إلى المستأجر كذا في الكافي، وكان الأجر له ويتصدق به في قول أبي حنيفة رحمه الله كذا في المحيط. (الفتاوى الهندية: ٤/۳٦٤، كتاب العارية، باب في التصرفات).
مجلہ میں ہے:
ليس للمستعير أن يؤجر العارية ولا أن يرهنها بدون إذن المعير. (مجلة: ۳/۳۲۵، المادة: ۸۲۳).
تبیین الحقائق میں ہے:
قوله (ولا يؤجر) لأن الإجارة لا زمة فيلزم المعير زيادة الضرر لأنه لو جازت الإجارة من المستعير لما جاز للمعير أن يرجع عليه حتى يفرغ مدتها فيتضرر فلا يلزمه بغير رضاه. وفي حاشية الشلبي: قال: فإذا فعل ذلك وآجرها صار بمنزلة الغاصب والغاصب إذا فعل يملك الأجرة ويتصدق بها لا نها حصلت بسبب خبيث وهو استعمال مال الغير فكان سبيله التصدق. (تبيين الحقائق مع الحاشية: ۵/۸۵، كتاب العارية، ط: ملتان).
مجلہ کی عبارت "
بدون إذن المعير" اور
تبیین کی عبارت "
بغير رضاه"
ان دونوں سے معلوم ہوتا ہے کہ معیر کی اجازت اور رضامندی سے شے مستعار کا اجارہ پر دینا جائز اور درست ہونا چاہیے ہونا چاہیے۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.