شے مستاجر کے چوری ہونے پر تاوان کا حکم:

3 min readFatwa Vol 5 #358Urdu
Vol. 5كتاب الإجارةکرایہ داری کے مسائل کا بیان

Question

اگر کرائے کی چیزیں گم ہو جائیں یا چوری ہو جائیں تو تاوان عائد کرنا جائز ہے یا نہیں؟

Answer

فقہائے کرام کی عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ کرائے کی چیزیں مستاجر کے قبضہ میں بطورِ امانت ہوتی ہیں، لہذا اگر اس نے حفاظت میں کوئی کوتاہی و تقصیر نہیں کی تو تاوان نہیں آئے گا ۔ لیکن موجود ہ دور میں عام طور پر مستاجرین کی غفلت اور لا پرواہی کی وجہ سے آئے دن اس قسم کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں اور یہ بھی معلوم کرنا مشکل ترین ہے کہ اس نے تقصیر کی تھی یا نہیں، پھر اکثر لوگوں کا حال یہ ہے کہ کمپنی کی اشیاء کو اجرت پر لے کر واپس کرنے میں بہت سستی کرتے ہیں، جس میں اس کمپنی کا نقصان ہوتا ہے، بنا بریں جملہ عوارض کو مد نظر رکھتے ہوے استحساناً تاوان کا حکم دیا جائے تو اس کی گنجائش ہونی چاہیے اور علمائے کرام کو اس مسئلہ پر غور کرنا چاہیے ۔ اور اس کی نظیر فقہاء کے کلام میں اجیر مشترک ہے کہ صاحبین رحمه الله کے مذہب کے مطابق استحساناً اس پر تاوان لگانا جائز ہے ۔
"صيانة لا موال الناس".

ملاحظہ ہو شرحِ مجلہ میں ہے:

المأجور أمانة في يد المستأجر إن كان عقد الإجارة صحيحاً أو لم يكن لا يلزم الضمان إذا تلف المأجور في يد المستأجر ما لم يكن بتقصيره أو تعديه أو مخالفته لمأذونيته. (شرح المجلة: ۲/۷۰۳، المادة: ٦۰۰ و ٦۰۱).
وفي الدر المختار: ولا يضمن ما هلك في يده وإن شرط عليه الضمان

قوله ولا يضمن

وفي البدائع

وقالا: يضمن إلا من حرق غالب أو لصوص مكابرين وهو استحسان

وقولهما قول عمر رضي الله عنه وعلي رضي الله عنه وبه يفتي احتشاماً لعمر وعلي وصيانة لا موال الناس. (الدر المختار مع رد المحتار: ٦/٦۵، سعيد).
وفي التبيين: لأن تضمين الأجير المشترك كان نوع استحسان عندهما صيانة لا موال الناس

فيجب عليه الضمان بما يمكن التحرز عنه حتى لا يتواني في حفظها وفي حاشية التبيين: حتى لا يقصر في حفظها أو لا يأخذ إلا بقدر ما يحفظه. (تبيين الحقائق: ۵/۱۳۸، ط: ملتان).
وفي شرح عقود رسم المفتي: فقد ظهر لك أن جمود المفتي أو القاضي على ظاهر المنقول مع ترك العرف والقرائن الواضحة والجهل بأحوال الناس يلزم منه تضييع حقوق كثيرة وظلم خلق كثيرين. (شرح عقود رسم المفتي، ص ۸۱).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.