تاوان کی شرط کے ساتھ کرایہ پر دینے کا حکم:
Question
آج کل بعض کمپنیاں لوگوں کو کرایہ پر برتن دیتی ہیں اور یہ شرط لگاتی ہیں کہ جتنے برتن ٹوٹ جائیں ان کا تاوان لیا جائے گا ۔ شرعاً تاوان ہے یا نہیں؟ اگر تاوان کی شرط نہ لگائے تو چند ماہ میں کمپنی خسارہ میں چلی جائے گی یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ برتن بے اختیار ٹوٹے یا قصداً ۔ برائے کرم حکمِ شرعی سے مطلع فرما کر اجر عظیم کے مستحق ہوں؟
Answer
اجارہ میں عین مستاجرہ پر قبضہ قبضۂ امانت ہوتا ہے، اور فقہاء کی عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ امین پر ضمان کی شرط باطل ہے، البتہ بعض صورتوں میں فقہاء نے امین پر ضمان کی شرط کے جواز کا قول اختیار فرمایا ہے، مثلاً اجیر مشترک پر تاوان کے سلسلہ میں بعض فقہاء نے فرمایا ہے کہ لوگوں کے اموال کی حفاظت کی خاطر تاوان لگانا چاہیے، اور یہ سبب صورتِ مسئولہ میں بھی متحقق ہے، اس وجہ سے تاوان کی شرط کے جواز کے بارے میں مفتی حضرات کو غور کرنا چاہیے ۔
ملاحظہ ہو تبیین الحقائق میں ہے:
يفسد الإجارة الشروط لا نها بمنزلة البيع أي فكل ما أفسد البيع أفسدها وأراد بالشروط شروطاً لا يقتضيها العقد. (تبيين الحقائق: ۵/۱۲۱، ملتان).
الفقه الحنفي في ثوبه الجديد
میں ہے:
العين المستأجرة أمانة في يد المستأجر إن تلفت بغير تفريط لم يضمنها
فإن شرط المؤجر على المستأجر ضمان العين فالشرط فاسد لأنه ينافي مقتضي العقد
(الفقه الحنفي في ثوبه الجديد: ٤/۳٦۱).
الدر المختار
میں ہے:
ولا تضمن بالهلاك من غير تعد وشرط الضمان باطل كشرط عدمه في الرهن خلافاً للجوهرة حيث جزم بصيرورتها مضمونة بشرط الضمان
(الدر المختار مع رد المحتار: ۵/٦۵۹، سعيد).
خلاصة الفتاوى
میں ہے:
ولو دفع الثياب إلى صاحب الحمام واستأجره وشرط عليه الضمان إذا تلف قال الفقيه أبو بكر: يضمن الحمامي إجماعاً وكان يقول: إنما لا يجب الضمان عند أبي حنيفة إذا لم يشترط الضمان والفقيه أبو جعفر سوى بينهما وكان يقول بعدم الضمان قال الفقيه أبو الليث وبه آخذ ونحن نفتي به. (خلاصة الفتاوى: ۳/۱۳۷).
شرح عقود رسم المفتی میں ہے:
والعرف في الشرع له اعتبار / لذا عليه الحكم قد يدار
واعلم أن اعتبار العادة والعرف يرجع إليه في مسائل كثيرة حتى جعلوا ذلك أصلاً
ثم اعلم أن العرف قسمان عام وخاص فالعام يثبت به الحكم العام ويصلح مخصصاً للقياس والأثر
(شرح عقود رسم المفتي: ۷۵، ۸۱).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.