کمپنی کے ملازمین کی غفلت کی وجہ سے ان پر تاوان ڈالنے کا حکم:
Question
ایک کمپنی ہے جو پردے اور اس سے متعلق سامان تیار کرتی ہے، اس کمپنی کے ملازمین یہ اشیاء تیار کرتے ہیں، بہت سی مرتبہ ملازمین غفلت اور کوتاہی برتتے ہیں جس کی وجہ سے سامان صحیح تیار نہیں ہوتا اور خریدار کی طرف سے شکایتیں موصول ہوتی ہیں، کمپنی نے کئی مرتبہ ملازمین کو متنبہ کیا لیکن اپنی غفلت سے باز نہیں آتے، اب کمپنی ملازمین پر جرمانہ عائد کرنا چاہتی ہے، تو کیا شرعاً اس کی اجازت ہے یا نہیں؟
Answer
بصورتِ مسئولہ کمپنی کے ملازمین اجیر خاص کے حکم میں ہیں اور اجیر خاص کا حکم یہ ہے کہ اگر کوئی چیز بلا تعدی ضائع ہو جائے تو تاوان واجب نہیں ہوگا، البتہ خود ہلاک کر دے، اور ان کی طرف سے تعدی پائی جائے تو تاوان واجب ہوگا، چنانچہ کمپنی کے مینیجر کے بار بار بتانے کے باوجود ملازمین غفلت سے باز نہیں آتے لہٰذا ان پر تاوان اور جرمانہ لگانا صحیح اور درست ہے۔ ملاحظہ ہو فتاوی شامی میں منقول ہے:
قوله ولا يضمن ما هلك في يده، أي بغير صنعه بالإجماع وقوله أو بعمله أي المأذون فيه فإن أمره بعمل فيعمل غيره ضمن ما تولد منه. (فتاوى الشامي: ٦/۷۰، سعيد).
قال في النتف في الفتاوى: فأما الأجير الخاص فهو الذي يعمل لك وحدك دون غيرك ويقال له أجير الوحد وهو لا يضمن ما يهلك على يديه إلا في ثلاثة أوجه: إذا خالف أو تعدي أو تعمد. (النتف في الفتاوى: ۲/۵٦۱، ط: لبنان).
قال في مجمع الضمانات: ولا ضمان على الأجير الخاص ولا فيما تلف من عمله اتفاقاً إذا لم يتعمد الفساد ذكره في الإصلاح نقلاً عن الخانية قال في الفصولين نقلاً عن التجريد الأجير الخاص: لا يضمن إلا بالتعدي. (مجمع الضمانات: ۱/۱۰۳).
جدید معاملات کے شرعی احکام میں مرقوم ہے:
اجیر خاص کے ہاتھ سے کوئی چیز بغیر تعدی کے ضائع ہو جائے تو اس پر تاوان لازم نہ ہو گا اور اگر خود تلف کر دے تو ضمان لازم ہو گا۔ (جدید معاملات کے شرعی احکام، جلد اول، ص ۱۹۸) ۔
مزید ملاحظہ ہو: (شرح مجلہ: ۲/۷۱۸، و عالمگیری: ٤/۵۰۰، و محیط برہانی: ۱۲/۳۱، و فتاوی دار العلوم زکریا: ۵/٦۳۲) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.