ملازم کی کوتاہی پر تاوان کا حکم:
Question
بعض ملازم جو پٹرول پمپ پر کام کرتے ہیں بہت بے احتیاطی کرتے ہیں، اور عجلت میں زیادہ ڈالتے ہیں، کیا ان کی اس بے احتیاطی کی وجہ سے ان پر تاوان لازم کر سکتے ہیں؟
Answer
بصورت مسئولہ ملازم نے غفلت اور بے احتیاطی کی وجہ سے زیادہ پٹرول ڈال دیا تو اس پر تاوان لازم کر سکتے ہیں، لیکن اگر پٹرول کی مشین ہی ایسی ہیں کہ مکمل احتیاط کے باوجود بے اختیار کچھ زیادہ چلا گیا تو ملازم پر تاوان لگانا درست نہیں ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں شرح المجلہ میں ہے:
لو تلف المستأجر فيه بتعدي الأجير وتقصيره يضمن وتعدي الأجير هو أن يعمل عملا أو يتصرف تصرفا مخالفين لأمر المؤجر صراحة كان أو دلالة. (شرح المجلة ص ۳۲٦)
وتقصير الأجير هو عدم اعتنائه في محافظة المستأجر فيه بلا عذر. (شرح المجلة، ص ۳۲۸).
الأجير الخاص أمين حتى أنه لا يضمن المال الذي تلف في يده بغير صنعه وكذا لا يضمن المال الذي تلف بعمله بلا تعد أيضا. (شرح المجلة، ص ۳۲۹).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.