غیر اسلامی تقریبات پر ہدایا کا حکم:

4 min readFatwa Vol 5 #284Urdu
Vol. 5كتاب الهبةعاریت اور امانت کے احکام

Question

کرسمس اور دیگر غیر اسلامی تقریبات کے موقعوں پر تحفے تحائف لینے دینے کا کیا حکم ہے؟ کیا تجارتی تعلقات کی وجہ سے انہیں دے سکتے ہیں یا نہیں؟ اس لیے کہ وہ ہماری اسلامی تقریبات میں ہمیں بھی تحفے دیتے ہیں، اور ان کو دینے میں تعلقات نبھانا مقصود ہے ان کے دین کی تعظیم مقصود نہیں ہے، تو کیا حکم ہے؟

Answer

بصورتِ مسئولہ اگر ان کے دین کی تعظیم مقصود نہ ہو بلکہ ظاہری دوستی یا ظاہری تعلقات نبھانا مقصود ہو تو تحفے تحائف کی گنجائش ہے، لیکن بہتر یہ ہے کہ کرسمس کے دن نہ دے بلکہ آگے پیچھے دے دے ۔
علامہ شامی رحمه الله فرماتے ہیں:

ولو أهدي لمسلم ولم يرد تعظيم اليوم بل يجري على عادة الناس لا يكفر وينبغي أن يفعله قبله أو بعده نفياً للشبهة. (فتاوى الشامي: ٦/۷۵٤، سعيد).

امداد الفتاوی میں حضرت تھانوی رحمه الله فقہی عبارات نقل کرنے کے بعد تحریر فرماتے ہیں:
ان روایات سے مہادات مسئول عنہا کے احکام کی تفصیل معلوم ہو گئی کہ اگر کوئی ضرر دینی نہ ہو تو کفار مصالحین سے ہدایا کا لین دین جائز ہے اور اس سے اکثر سوالوں کا جواب حاصل ہو گیا، صرف دو جزو خاص قابل تعرض کے باقی رہ گئے، ایک یہ کہ ہدیہ دیوالی کا شاید اس تہوار کی تعظیم کے لیے ہو جس کو فقہاء نے سخت ممنوع لکھا ہے، دوسرا یہ کہ اس میں تصاویر بھی ہوتی ہیں، ان کا اقتناء و احترام مستلزم للتقوم و استعمال لازم آتا ہے اور بعض فروع میں تصاویر کے تقوم کی نفی کی گئی ہے، تو اس میں اس حکم شرعی کا بھی معارضہ ہے، جواب اول کا یہ ہے کہ یہ عادت سے معلوم ہے کہ اس ہدیہ کا سبب مہدی لہ کی تعظیم ہے نہ کہ تہوار کی تعظیم، اور جواب ثانی کا یہ ہے کہ مقصود اہداء میں صورت نہیں بلکہ مادہ ہے، البتہ یہ واجب ہے کہ مہدی لہ فوراً تصاویر کو توڑ ڈالے ۔ (امداد الفتاوی:
۳
/
٤۸۲
) ۔
مولانا عبد الحی لکھنوی رحمه الله فرماتے ہیں:
سوال: اگر ہندو ہولی یا دیوالی کے دن معزز مسلمانوں کے سامنے مٹھائی وغیرہ پیش کریں تو مسلمانوں کو لینا درست ہے یا نہیں؟
جواب: درست ہے مگر فرحت اور سرور میں کفار کی عید کے دن موافقت نہ کرنا چاہیے مجمع البرکات میں ہے کہ نیروز کے دن جو مجوسی کہ بڑے لوگوں کے پاس اور اپنے دوست اشناؤں کے گھر کھانے کی چیزیں لاتے ہیں ان کا لے لینا حلال ہے اور کیا ان کے لینے والے کو کوئی دینی ضرر ہے تو بعض کہتے ہیں کہ جوان کی خوشی میں شریک ہو کر لیتا ہے اس کو دینی ضرر ہے اور جواس کے سوا اور کسی طرح لیتا ہے اس کو حرج نہیں مگر پھر بھی اس سے احتراز اچھا ہے ایسا ہی مطالب المؤمنین میں ہے ۔ (معلم الفقہ ترجمہ مجموعۃ الفتاوی:
۲
/
۳٦۳
، و کذا فی
۳۵۸
، و
۳۸۲
) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.