اجارہ میں صفقۃ فی صفقۃ کا حکم:
Question
زید نے رنگریز کو کپڑا دیا کہ اس کو ۵۰ روپے میں رنگ دو، اس نے رنگ دیا یا درزی کو کپڑا دیا کہ آپ ۲۰۰ روپے میں سی لو، اس نے سی لیا یہ معاملہ بظاہر جائز ہے اسی پر لوگوں کا عمل درآمد ہے، لیکن اس پر ایک فقہی اشکال ہے کہ جب رنگ اور دھاگا اجیر کی طرف سے ہے تو یہ صفقۃ فی صفقۃ بن گیا، کیوں کہ بیع اور اجارہ دونوں جمع ہو گئے بیع العین اور بیع المنفعۃ صفقۃ فی صفقۃ ہے، نیز اس میں ایک اور خرابی بظاہر یہ ہے کہ اجارہ استہلاکِ منفعت پر ہوتا ہے جب کہ یہاں استہلاکِ عین پایا گیا ؟ بینوا توجروا ۔
Answer
فقہاء نے تعامل کی وجہ سے اس معاملہ کو جائز فرمایا ہے ۔
ہدایہ میں ہے:
وفي الاستحسان يجوز للتعامل فيه فصار كصبغ الثوب وللتعامل جوزنا الاستصناع. (الهداية: ۳/٦۱، باب بيع الفاسد).
عنایہ شرح ہدایہ میں ہے:
فإن القياس لا يجوز استيجار الصباغ لصبغ الثوب لأن الإجارة عقد على المنافع لا الأعيان وفيه عقد على العين وهو الصبغ لا الصبغ وحده لكن جوز للتعامل جواز الاستصناع. (العناية مع فتح القدير: ٦/۸۵، مكتبه رشيديه).
نیز اس میں صفقۃ فی صفقۃ بھی ہے کیوں کہ اجارہ کے ساتھ رنگ کی بیع اور خیاطت میں دھاگے اور اس کے متعلقات کی بیع ہے، لیکن اجارہ اصالۃً ہے اور بیع تبعاً ہے ۔
ملاحظہ ہو حضرت تھانوی رحمه الله فرماتے ہیں:
سوال:
"نهي عن صفقة في صفقة"
کے ظاہری معنی کے لحاظ سے بعض امور ناجائز معلوم ہوتے ہیں حالانکہ بکثرت خاص و عام میں شائع ہیں، مثلاً گھڑی کی مرمت کہ ٹوٹے ہوے پرزے کو نکال کر صحیح پرزہ لگا دے تو اس پرزہ کی تو بیع ہے اور لگانے کا اجارہ ۔ (۲) چار پائی بنوانا اور بان اپنے پاس سے نہ دینا اس میں بان کی بیع ہے اور بننے کا اجارہ ۔ (۳) سقہ سے پانی لینا کہ جب اس نے کنویں سے پانی نکال کر اپنے ظروف میں لیا تو اس کی ملک ہو گیا سو پانی کی بیع ہوئی اور وہاں سے لانے کا اجارہ نیز بیع ما لیس عندہ بھی ہے، (٤) کوئی زیور یا انگوٹھی جڑنے کو دینا کہ نگینوں کی بیع ہے اور لگانے کا اجارہ وغیرہ ذلک من المعاملات الرائجۃ ۔
الجواب: تعامل کی وجہ سے کہ بلا نکیر شائع ہے جو ایک نوع کا اجماع ہے یہ سب معاملات جائز ہیں، پس نص عام مخصوص البعض ہے جیسا کہ فقہاء نے صباغی اور خیاطی میں اس کی اجازت دی ہے کہ صبغ اور خیط صانع کا ہوتا ہے اور اس میں اجارہ بھی ہوتا ہے، و ہذا ظاہر جداً فقط، واللہ اعلم ۔ (امداد الفتاوی: ۳/٦۳، ٦٤) ۔
صفقۃ فی صفقۃ کی تفصیلی بحث کتاب البیوع میں گزر چکی ہے، وہاں ملاحظہ کی جا سکتی ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.