عین مستاجرہ مشترکہ کے کرایہ کا حکم:

2 min readFatwa Vol 5 #354Urdu
Vol. 5كتاب الإجارةکرایہ داری کے مسائل کا بیان

Question

اگر کوئی ٹیکسی دو آدمیوں نے خریدی اور ایک غائب ہو گیا اور حاضر نے ٹیکسی کی پوری رقم ادا کی غائب تین ماہ کے بعد واپس آیا اور نصف قیمت ادا کر دی ۔ اب غائب تین ماہ کی کمائی میں شریک ہے یا نہیں؟ اور اگر حاضر نے اس کو چلایا تو تین ماہ کی تنخواہ شریک کے حصے سے وصول کر سکتا ہے یا نہیں؟

Answer

جب مشتری حاضر نے غائب کی طرف سے بطورِ وکالت قیمت ادا کر دی تو مبیع میں دونوں شریک ہو گئے، اور جب مبیع میں شریک ہوے تو اس کے منافع میں بھی شریک ہوں گے ۔ لہذا غائب تین ماہ کی کمائی میں شریک ہوگا ۔ لیکن چونکہ شریک موجود نہیں اور اس کا وکیل بھی نہیں لہذا اس کے حصے کی تنخواہ وصول نہیں کر سکتا، کیوں کہ عقد اجارہ میں جانبین کی رضامندی اور عقد کا پایا جانا ضروری ہے جو یہاں مفقود ہے ہاں شریک کو چاہیے کہ چلانے والے کو اس کی محنت کا کچھ صلہ دے دے ۔
ملاحظہ ہو البحر الرائق میں ہے:

ولو غاب أحد المشتريين فللحاضر دفع كل الثمن وقبضه وحبسه حتى ينقد شريكه

فصار كمعير الرهن وصاحب العلو والوكيل بالشراء إذا أدي الثمن من ماله. (البحر الرائق: ٦/۱۷۵، كوئته).

دوسری جگہ مذکور ہے:

وكل واحد منهما قائم مقام صاحبه في التصرف فكان شراء أحدهما كشرائهما

(البحر الرائق: ۵/۱۷۰، كوئته).
قال في الهداية: الإجارة عقد يرد على المنافع بعوض. (الهداية: ۳/۲۹۳، كتاب الإجارات).
وفي الفتاوى الهندية: أما تفسيرها شرعاً فهي عقد على المنافع بعوض. (الفتاوى الهندية: ٤/٤۰۹).

احسن الفتاوی میں ایک تفصیلی سوال کے جواب میں مذکور ہے:
زید نے اپنے والد سے اجرت پر کام کرنا طے نہیں کیا تھا اس لیے اس کام کرنا تبرع ہے البتہ والد کو چاہیے کہ زید کی محنت کے پیش نظر اس کی مناسب مدد کر دے ۔ (احسن الفتاوی: ٦/۳۱۹) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.