مشتری ثانی سے کل قیمت کے مطالبہ کا حکم:
Question
دو آدمیوں نے ایک مشین خریدی جس کا ثمن ایک ماہ کے لیے مؤجل ہے ایک مشتری غائب ہو کر کہیں چلا گیا، اب مدت ختم ہونے کے بعد بائع پوری قیمت طلب کرتا ہے، تو مشتری ثانی مشین کیسے وصول کرے؟ بینوا توجروا ۔
Answer
بصورتِ مسئولہ جب بائع پورا ثمن وصول کیے بغیر مشین دینے پر راضی نہیں ہے تو مشتری ثانی کو چاہیے کہ پوری قیمت ادا کر دے اور مشین پر قبضہ کر لے پھر جب مشتری اول آ جائے تو اس سے نصف قیمت وصول کرنے بعد اس کا حصہ سپرد کرے ۔
ملاحظہ ہو الدر المختار میں ہے:
وإن اشتري اثنان شيئاً وغاب واحد منهما فللحاضر دفع كل ثمنه ويجبر البائع على قبول الكل ودفع الكل للحاضر وله قبضه وحبسه عن شريكه إذا حضر حتى ينقد شريكه الثمن بخلاف المستأجرين. (الدر المختار: ۵/۲۳۱، سعيد).
تبيين الحقائق
میں ہے:
ولو غاب أحد الشريكين للحاضر دفع كل الثمن وقبضه وحبسه حتى ينقد شريكه يعني إذا اشترى رجلان فغاب أحدهما قبل القبض يكون للحاضر دفع كل الثمن وقبضه كله ثم إذا حضر شريكه فله أن يحبسه عنه حتى ينقده. (تبيين الحقائق: ٤/۱۲۹، ملتان).
مزید ملاحظہ ہو:
(شرح العناية: ۷/۱۲۷، والبحر الرائق: ٦/۱۷۰، وفتح القدير: ۷/۱۲۷، والبناية: ۳/۲۱۱).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.