مختلف فیہ مسائل میں فتوی دینے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 1 #222Urdu
Vol. 1أصول کے متفرق مسائلباب ٣: دعوت و تبلیغ کا بیان

Question

مختلف فیہ مسائل میں کس کے قول پر فتوی دیا جائے گا؟

Answer

رسم المفتی میں ہے:

والحاصل أنه إذا اتفق أبو حنيفة وصاحباه على جواب لم يجز العدول عنه إلا للضرورة، وكذا إذا وافقه أحدهما

(۱) اگر کسی مسئلہ میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور صاحبین رحمہ اللہ ایک بات پر متفق ہیں اور وہ حکم ضرورت کے خلاف نہ ہو تو اسی پر عمل کیا جائے گا ۔
(۲) اگر ائمہ ثلاثہ احناف کسی بات پر متفق ہوں لیکن ضرورت کا تقاضا کچھ اور ہو تو ضرورت کے مطابق دلائل کی روشنی میں ان کے قول کے علاوہ پر فتوی دیا جا سکتا ہے ۔
(۳) امام صاحب رحمہ اللہ کے ساتھ صاحبین رحمہ اللہ میں سے ایک ہو تو قاضی خان کی عبارت کی روشنی میں امام صاحب کے قول کو لیا جائے گا کیونکہ امام صاحب رحمہ اللہ میں شرائط کامل طور پر پائے جاتے ہیں دلائلِ صحت موجود ہے ۔
(٤) اگر امام صاحب رحمہ اللہ ایک طرف ہیں اور صاحبین دوسری طرف، اور صاحبین میں سے کسی نے امام صاحب کی موافقت نہیں کی تو عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مطلقاً امام صاحب کے قول کو لیا جائے گا، اور بعض حضرات کہتے ہیں کہ مفتی کو اختیار ہے جس کا قول چاہے لے سکتا ہے ۔
محققین نے مذکورہ بالا دونوں اقوال میں اس طرح ترجیح دی ہے کہ عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ کا قول مفتی غیر مجتہد سے متعلق ہے، اور بعض لوگوں کا قول مفتی مجتہد سے متعلق ہے، یعنی مفتی مجتہد کو اختیار ہے اور مفتی غیر مجتہد کو اختیار نہیں ۔
مذکورہ بالا تمام تفاصیل اس وقت ہے جب کہ بعد کے مشائخ نے کسی دلیل یا ضرورت کی بنیاد پر صاحبین یا کسی اور مسلک پر فتوی نہ دیا ہو، اگر بعد کے مشائخ نے صاحبین کے مذہب کو اختیار کیا ہو تو مشائخ کی ترجیحات پر عمل کیا جائے گا جیسے مزارعت اور مساقات کے مسئلہ میں ۔
امام صاحب کے قول کو چھوڑ کر صاحبین کے قول کو کب لیا جائے گا؟
علامہ ابن نجیم رحمہ اللہ نے اس کی تین صورتیں بیان فرمائی ہیں:
(۱) امام صاحب رحمہ اللہ کی دلیل کی کمزوری ۔
(۲) ضرورت و تعامل جیسے مزارعت اور مساقات کے مسئلہ میں ۔
(۳) صاحبین کا اختلاف اختلافِ زمانہ ہو ۔ (
ملخص من شرح عقود رسم المفتي ص ۱۹).

خلاصہ یہ کہ علامہ شامی رحمہ اللہ نے ترجیح اس بات کو دی ہے کہ مفتی مجتہد کے لیے قوتِ دلیل کی روشنی میں فتوی دینا جائز ہے اور غیر مجتہد کے لیے مذکورہ بالا تفصیل ہے ۔

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.