وضو میں دوسرے سے مدد لینے کا حکم:
Question
اگر کوئی شخص وضو میں دوسرے سے مدد لینا چاہے اور اس سے کہ دے کہ تم پانی ڈالو یا ہاتھ پیر دھلوا دو تو کیا حکم ہے؟
Answer
وضو میں پانی ڈالنے کی حد تک دوسرے سے مدد لینے کی گنجائش ہے لیکن اگر دوسرا شخص بلا عذر ہاتھ پیر دھلوائے تو مکروہ ہے ۔ ملاحظہ ہو:
وحاصله أن الاستعانة في الوضوء إن كانت بصب الماء أو استقائه أو إحضاره فلا كراهة بها أصلاً ولو يطلبه وإن كانت بالغسل والمسح، فتكره بلا عذر، ولذا قال في التتارخانية: ومن الآداب: أن يقوم بأمر الوضوء بنفسه ولو استعان بغيره جاز بعد ألا يكون الغاسل غيره، بل يغسل بنفسه. (فتاوى الشامي: ۱/۱۲۷).
استعانت کی تین قسمیں ہیں (۱) استعانت پانی منگوانے میں جائز ہے ۔ (۲) استعانت پانی ڈالنے کے ساتھ خلاف اولیٰ ہے الا یہ کہ عذر ہو ۔ (۳) استعانت پا نی ڈال کر اعضاء ملنے کے ساتھ مکروہ ہے اگر بلا عذر ہو ۔
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.