ایک شریک پر تاوان ڈالنے کا حکم:

1 min readFatwa Vol 5 #413Urdu
Vol. 5كتاب المضاربةشرکت سے متعلق احکام کا بیان

Question

چند افراد نے شرکت کی ہے اور اس میں کچھ نقصان ہوا تو صرف عمل کرنے والا ضامن ہوگا یا سب پر تقسیم ہوگا؟

Answer

فقہاء نے فرمایا کہ نفع میں تو کمی بیشی کی شرط جائز ہے، لیکن نقصان ہو تو تاوان سب شرکاء پر مشترکہ طور پر برابر تقسیم ہوگا ۔ مثلاً پانچ افراد میں سے ہر ایک نے ۱۰۰۰ رینڈ جمع کیے اور شرکت منعقد کی اور اتفاقاً ۱۰۰۰ رینڈ کا نقصان ہوا تو صرف ایک شخص کو ذمہ دار ٹھہرانا درست نہیں، بلکہ ہر ایک شریک ۲۰۰ رینڈ کا ذمہ دار ہوگا۔ ملاحظہ ہو فتاوی شامی میں ہے:

مطلب اشتراط الربح متفاوتاً صحيح، بخلاف اشتراط الخسران، قال: فما كان من ربح فهو بينهما على قدر رؤوس أموالهما، وما كان من وضيعة أو تبعة فكذلك، والخلاف أن اشتراط الوضيعة بخلاف قدر رأس المال باطل واشتراط الربح متفاوتاً عندنا صحيح. (فتاوى الشامي: ٤/۳۰۵، سعيد).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.