سرکہ بنانے میں مسلمان کی شرکت کا حکم:
Question
ایک مسلمان اور ایک غیر مسلم سرکہ بنانے کی ایک فیکٹری میں شریک ہیں، سرکہ بنانے کے لیے انگور وغیرہ کے عصیر کو شراب کے مرحلہ سے گزارنا پڑتا ہے، غیر مسلم کے لیے تو کوئی مسئلہ نہیں ہے، لیکن مسلمان پریشان ہے کہ کیا میرے لیے یہ کاروبار جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔
Answer
جب شراب مقصود نہیں بلکہ سرکہ بنانا مقصود ہے تو اس کاروبار میں مسلمان کی شرکت جائز ہے، لیکن یہ ضروری ہے کہ کسی طرح شراب کو سرکہ بنانے سے پہلے پینے کے لیے استعمال نہ کیا جائے ۔
ملاحظہ ہو عالمگیری میں ہے:
ولو أمسك الخمر في بيته للتخليل جاز ولا يأثم. (الفتاوى الهندية: ۵/۳۷۳، كتاب الكراهية، في المتفرقات).
ہدایہ میں ہے:
والمسلم يحمي خمر نفسه للتخليل. (الهداية: ۱/۱۹۸، كتاب الزكاة، باب فيمن يمر على العاشر).
بنایہ میں ہے:
وللمسلم ولاية خمور نفسه حتى أن الذمي إذا سلم وله خمور كان له حفظها أو يحفظها غيره لتخللها أو يتخلل بنفسها. (البناية في شرح الهداية: الجزء الثاني، ص ۱۲۲۲).
فتح القدیر میں ہے:
قوله تبعاً للخمر دون العكس لأنها "أي الخمر" مالية لأنها قبل التخمر مال وبعده كذلك بتقدير التخلل. (فتح القدير: ۲/۲۳۰، باب فيمن يمر على العاشر، دار الفكر).
محیط برہانی میں ہے:
ان الخمر كما يكون للشرب، وإنه معصية في حق المسلم، يكون للتخليل، وإنه مباح للكل. (المحيط البرهاني: ۹/۱۹۰، الاستئجار على المعاصي).
اور درمیان میں اس کا خمر بننا ضمناً اور تبعاً ہے مقصود نہیں،
كثير من الأشياء تثبت ضمناً لا تثبت قصداً
۔ اگر کوئی مسجد میں اعتکاف کرتا ہے تو مسجد میں سوتا ہے، لیکن یہ سونا قصداً نہیں مقصود عبادت ہے لہذا مکروہ نہیں ہے بلکہ ثواب ملے گا، فقہاء نے قاعدہ ذکر فرمایا ہے:
يغتفر في التابع ما لا يغتفر في غيرها. (قواعد الفقه، ص ۱۴۲).
شرحِ مجلہ میں ہے:
اگر کسی نے قسم کھائی کہ اون نہیں خریدوں گا اور دنبہ خریدا تو حانث نہیں ہوگا، کیوں کہ اون کی خرید تبعاً ہے. (شرح المجلۃ: ۱/۱۳۲) ۔
یا یہ قسم کھائی کہ اینٹیں اور لکڑیاں نہیں خریدوں گا اور مکان خریدا تو قسم نہیں ٹوٹی کیوں کہ اینٹیں اور لکڑیاں تبعاً آ گئیں. (شرح المجلۃ: ۱/۱۳۲) ۔
محمد خالد اتاسی نے مجلہ کی شرح میں اس قاعدہ کی متعدد مثالیں تحریر فرمائی ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.