تفریحی تالاب میں دوائی والے پانی سے وضو کرنے کا حکم:
Question
تفریحی تالاب (SWIMMING-POOL) کا پانی اکثر دوائی (CHEMICALS ( کے ذریعہ صاف کیا جاتا ہے اور دوائی (CHEMICALS) کی وجہ سے پانی کی بُو اور ذائقہ بد ل جاتا ہے تو دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس پانی سے وضو کرنا درست ہے یا نہیں؟
Answer
اگر دوائی (CHEMICALS) صفائی کی خاطر ڈالی جاتی ہے تو اس پانی سے وضو درست ہے اگر چہ مزہ اور بُو بدل جائے، ہاں اگر پانی گاڑھا ہو گیا تو پھر وضو درست نہیں ۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
وإن طبخ في الماء ما يقصد به المبالغة في النظافة كالأشنان والصابون جاز الوضوء به بالإجماع إلا إذا صار ثخيناً فلا يجوز كذا في محيط السرخسي. (الفتاوى الهندية: ۱/۲۱
) ۔
فتاوی قاضی خان میں ہے:
لا يجوز التوضؤ بماء الورد والزعفران ولا بماء الصابون والحرض (أشنان) إذا ذهبت رقته وصار ثخينا وإن بقيت رقته ولطافته جاز به التوضؤ وكذا لو طبخ بالماء ما يقصد به المبالغة في التنظيف كالسدر والحرض وان تغير لونه، ولكن لم تذهب رقته يجوز به التوضؤ وإن صار ثخيناً مثل السويق لا يجوز التوضؤ. (فتاوى قاضي خان: ۱/ ۱٦).
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.