تفریحی تالاب میں دوائی والے پانی سے وضو کرنے کا حکم:

1 min readFatwa Vol 1 #231Urdu
Vol. 1كتاب الطهارةباب ١: وضو اور غسل کا بیان

Question

تفریحی تالاب (SWIMMING-POOL) کا پانی اکثر دوائی (CHEMICALS ( کے ذریعہ صاف کیا جاتا ہے اور دوائی (CHEMICALS) کی وجہ سے پانی کی بُو اور ذائقہ بد ل جاتا ہے تو دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس پانی سے وضو کرنا درست ہے یا نہیں؟

Answer

اگر دوائی (CHEMICALS) صفائی کی خاطر ڈالی جاتی ہے تو اس پانی سے وضو درست ہے اگر چہ مزہ اور بُو بدل جائے، ہاں اگر پانی گاڑھا ہو گیا تو پھر وضو درست نہیں ۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:

وإن طبخ في الماء ما يقصد به المبالغة في النظافة كالأشنان والصابون جاز الوضوء به بالإجماع إلا إذا صار ثخيناً فلا يجوز كذا في محيط السرخسي. (الفتاوى الهندية: ۱/۲۱
) ۔
فتاوی قاضی خان میں ہے:

لا يجوز التوضؤ بماء الورد والزعفران ولا بماء الصابون والحرض (أشنان) إذا ذهبت رقته وصار ثخينا وإن بقيت رقته ولطافته جاز به التوضؤ وكذا لو طبخ بالماء ما يقصد به المبالغة في التنظيف كالسدر والحرض وان تغير لونه، ولكن لم تذهب رقته يجوز به التوضؤ وإن صار ثخيناً مثل السويق لا يجوز التوضؤ. (فتاوى قاضي خان: ۱/ ۱٦).

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.