دودھ میں ملے ہوے پانی سے وضو کرنے کا حکم:

1 min readFatwa Vol 1 #232Urdu
Vol. 1كتاب الطهارةباب ١: وضو اور غسل کا بیان

Question

دودھ میں ملے ہوے پانی سے وضو کرنا درست ہے یا نہیں؟

Answer

اگر پانی کا رنگ دودھ کی طرح ہو گیا تو وضو درست نہیں اور اگر دودھ بہت کم ہے اس طور پر کہ پانی کا رنگ نہیں بد لا تو وضو درست ہے ۔
نور الایضاح میں ہے:

ولا يجوز (الوضوء) بماء شجر وثمر إلى قوله ولا بماء زال طبعه بالطبخ أو بغلبة غيره عليه، والغلبة في المائعات بظهور وصف واحد من مائع له وصفان فقط كاللبن له اللون والطعم ولا رائحة له. (نور الإيضاح ص ۲٤).

امداد الفتاح میں ہے:

(من مائع له وصفان) فقط ومثل ذلك بقوله: كاللبن له اللون والطعم فإن لم يوجدا جاز به التوضؤ، وإن وجد أحدهما لم يجز. (إمداد الفتاح ص، ٤۱، والفتاوى الهندية: ۱/۱۳).

خلاصہ یہ ہے کہ پانی میں دودھ مل جائے تو دیکھا جائے گا اگر پانی میں دودھ کا رنگ یا مزہ ظاہر ہو گیا یعنی دوا وصاف میں سے ایک وصف بدل گیا تو وضو درست نہیں ہو گا ۔

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.