مدرسہ میں طلبہ کی کتاب، کاپی کا حکم:

1 min readFatwa Vol 6 #31Urdu
Vol. 6احکامِ لقطہ کا بیان

Question

سال کے اختتام پر بہت سے ملکی اور غیر ملکی طلبہ اپنی ذاتی کتابیں، کاپیاں درس گاہوں، کمروں اور مدرسہ کی مختلف جگہوں میں چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ اکثر انہیں ان چیزوں سے کوئی دل چسپی نہیں ہوتی، اور یہ بات بھی یقینی ہے کہ وہ کبھی اپنی کتاب یا کاپی لینے کے لیے واپس نہیں آئیں گے، کیا ایسی کتابیں کسی بھی طالبِ علم کے لیے استعمال کرنا اور اپنے لیے رکھ لینا درست ہوگا یا نہیں؟ بینوا توجروا۔

Answer

بصورتِ مسئولہ اگر کسی کتاب کا مالک معلوم ہو اور کتاب پر اس کا نام مکتوب ہو تو اس سے رابطہ کر کے پوچھ لیا جائے کہ کتاب کے ساتھ کیا کریں، عام طور پر کتاب پر نام لکھا ہوا ہوتا ہے، اور اگر نام مکتوب نہ ہو اور مالک معلوم نہ ہو تو یہ کتابیں لقطہ کے حکم میں ہیں مالک کی تحقیق کی جائے اگر غالب گمان یہ ہو کہ مالک نہیں ملے گا تو کتابیں مالکین کی طرف سے فقیر طلبہ کو دے دی جائیں اگر واجد یعنی اٹھانے والا خود مالکِ نصاب نہیں تو وہ خود بھی لے سکتا ہے۔
لقطہ کے دلائل ما قبل میں تفصیل کے ساتھ گزر چکے ہیں، وہاں ملاحظہ کر لیے جائیں۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.