جانور کو منشیات کے ذریعہ قابو میں لانے کا حکم:
Question
ہمارے یہاں موزنبیق میں ایک شخص نے جنگل میں ایک شراب سے بھرا ہوا برتن کھلا ہوا رکھ دیا، تاکہ شکار اس سے پی لے، چنانچہ شکار نے پی لیا، اور جانور نشہ میں آگیا، اور نشہ کی وجہ سے بھاگ نہ سکا، اس آدمی نے جانور کو شرعی طریقہ پر ذبح کر دیا ۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا اس جانور کا کھانا جائز ہے یا نہیں؟ جب کہ گوشت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، اور اس طرح کا حیلہ استعمال کرنے کی اجازت ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔
Answer
بصورت مسئولہ شراب اگر اشربہ اربعہ محرمہ کے علاوہ سے ہے تو معاملہ آسان ہے، اور اگر اشربہ اربعہ محرمہ میں سے ہے تو چونکہ جانور غیر مکلف ہے اس لیے شراب دور رکھ لے اور جانور خود آ کر پی لے تو اس میں کوئی حرج نہیں، پھر جس طرح مردہ کیڑوں کے ذریعہ مچھلی کا شکار کرنا جائز ہے اسی طرح اس قسم کا حیلہ استعمال کرنے کی بھی گنجائش ہو گی، کیوں کہ اس حیلہ کا مقصد جانور کے شکار کو آسان بنانا ہے اس سے جانور کو کوئی ایذا پہنچانا مقصود نہیں ہے، پھر شراب کی وجہ سے گوشت میں کوئی خرابی بھی نہیں آئی لہذا، اس کا گوشت کھانا حلال ہے ۔
ملاحظہ ہو فتاوی شامی میں ہے:
(قوله ولو لسقي دواب) قال بعض المشايخ: لو قاد الدابة إلى الخمر لا بأس به، ولو نقل إلى الدابة يكره، وكذا قالوا فيمن أراد تخليل الخمر ينبغي أن يحمل الخل إلى الخمر ولو عكس يكره وهو (فتاوى الشامي: ٦/ ٤٤۹، كتاب الأشربة، سعيد).
قال في البزازية: ولا يحمل الجيفة إلى الهرة ويحمل الهرة إلى الجيفة. (الفتاوى البزازية على هامش الفتاوى الهندية: ٤/ ۸۲).
فعلم من هذا أن نقل الخمر أو الجيفة إلى الحيوان مكروه ولو قاد الحيوان إلى الخمر أو الجيفة أو أتي إليه بنفسه لا بأس به والحيوان غير مكلف ولهذا يحل له أكل الميتة.
البحر الرائق
میں ہے:
ولا بأس برش الماء النجس في الطريق ولا للبهائم وفي خزانة الفتاوى: لا بأس بأن يسقي الماء النجس للبقر والإبل والغنم. (البحر الرائق: ۱۰/ ۱۲۵، باب التداوي ببول ما يؤكل لحمه).
ملاحظه هو: (الهداية: ٤/ ٤۹۵، كتاب الأشربة).
تبيين الحقائق
میں ہے:
ولو سقي ما يؤكل لحمه خمراً فذبح من ساعته حل أكله ويكره. (تبيين الحقائق: ٦/۱۰، ط: إمدادية).
(وكذا في الدر المختار: ٦/۳٤۱، سعيد، وفتاوى اللكنوي، ص ۳۷٦).
لیکن مذکورہ بالا عبارت میں کراہت کی علت گوشت میں خرابی کا پیدا ہونا ہے اگر گوشت میں کوئی خرابی نہیں ہے تو بلا کراہت جائز ہوگا ۔ ملاحظہ ہو علامہ زیلعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
أما الدجاجة التي تخلط بأن تتناول النجاسة والجيف وتتناول غيرها على وجه لا يظهر أثر ذلك في لحمها فلا بأس به ولهذا يحل أكل لحم جدي غذي بلبن الخنزير لأن لحمه لا يتغير وما غذي به يصير مستهلكاً لا يبقي له أثر. (تبيين الحقائق: ٦/۱۰، إمدادية).
شرح منظومہ ابن وہبان میں ہے:
وجازت من الماء المنجس عينه
٭
ولو أرسلت فيه إلى حين يكبر
مسألة البيت من القنية رقم لعين الأئمة الكرابسي، وقال: أرسلت سمكة في ماء نجس فكبرت فيه لا بأس بأكلها للحال.
وظاهر عبارة المصنف أنه سوى بين ذلك وبين ما لو تولدت من ماء نجس العين ولا ينكر ذلك كالحيوان المتولد من المني، ووجهه المصنف بأنه حلال بالنص وكونه يتغذى بالنجاسة لا يمنع حله، إذا ثبت حله بالدليل
ونقل عن مقطعات الظهيرية: ولو أن جدياً غذي بلبن الخنزير لا بأس بأكله لأن لحمه لا يتغير. (شرح منظومة لا بن وهبان: ۲/۱۳۸، كتاب الصيود والذبائح).
خلاصہ یہ ہے کہ اگر گوشت میں کوئی تغیر ہو چکا ہو تو اس کا کھانا مکروہ ہوگا ۔ ورنہ نہیں ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.