نشہ آور پاؤڈر (Beer powder) کی تجارت کا حکم:

2 min readFatwa Vol 9 #378Urdu
Vol. 9باب… )۱۰( تجارت سے متعلق متفرق مسائل کا بیان

Question

ایک قسم کا پاؤڈر ملتا ہے جس کو بیئر پاؤڈر (Beer powder) کہا جاتا ہے، اس کے استعمال کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ اس کو پانی میں ڈال کر چوبیس گھنٹے رکھا جاتا ہے، پھر وہ پاؤڈر نشہ آور شراب میں تبدیل ہو جاتا ہے، کیا اس کی تجارت جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔

Answer

بصورتِ مسئولہ چونکہ اِس پاؤڈر کا غالب استعمال شراب میں ہوتا ہے اس وجہ سے اس کی تجارت سے بالکل بچنا چاہیے، ہاں اشربہ اربعہ محرمہ (انگور کی کچی شراب، انگور کی پختہ شراب، کھجور کی شراب اور زبیب کی شراب) کی تجارت حرام ہے باقی منشیات کی تجارت حرام نہیں بلکہ مکروہ تحریمی اور ناجائز ہے ۔
ملاحظہ ہو فتاوی شامی میں مرقوم ہے:

قال في الدر المختار: وصح بيع غير الخمر ومفاده صحة بيع الحشيشة والأفيون. قوله وصح بيع غير الخمر أي عنده خلافاً لهما في البيع والضمان لكن الفتوى على قوله في البيع وعلى قولهما في الضمان إن قصد المتلف الحسبة وذلك يعرف بالقرائن وإلا فعلي قوله كما في التتارخانية وغيرها، ثم إن البيع وإن صح لكنه يكره كما في الغاية. (فتاوى الشامي: ٦/٤۵٤، سعيد).
وفيه أيضاً: وجاز بيع عصير

ممن يعلم أنه يتخذه خمراً لأن المعصية لا تقوم بعينه بل بعد تغيره وقيل: يكره لا عانته على المعصية. (فتاوى الشامي: ٦/۳۹۱، سعيد).
(وكذا في البحر الرائق: ۸/۲۳۰، دار المعرفة، وتبيين الحقائق: ٦/۲۸، ط: إمداديه).

اسلام اور جدید معاشی مسائل میں مذکور ہے:
بیع کے بارے میں یہ اصول ہے کہ جس شیٔ کا کوئی جائز استعمال ہو اس کی بیع جائز ہے چاہے وہ چیز عام طور سے ناجائز کام میں استعمال ہوتی ہو، یعنی اب یہ مشتری کا کام ہے کہ اس کو جائز مقصد کے لیے استعمال کرے (اسلام اور جدید معاشی مسائل: ٤/۱۷) ۔
فتاوی محمودیہ میں مذکور ہے: گانجہ، بھنگ، افیون کی تجارت مکروہ تحریمی ہے، لیکن اگر کسی نے کر لیا تو صحیح ہو جائے گی ۔ (فتاوی محمودیہ: ۱٦/۱۲۱، جامعہ فاروقیہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.