الکحول (Alcohol) مخلوط پرفیوم کی تجارت کا حکم:

6 min readFatwa Vol 9 #394Urdu
Vol. 9باب… )۱۰( تجارت سے متعلق متفرق مسائل کا بیان

Question

پرفیوم جس میں الکحول ہوتا ہے کیا بدن یا کپڑے پر لگانا جائز ہو گا یا نہیں؟ نیز اس کی تجارت کا کیا حکم ہے؟ اگر کسی شخص نے کپڑے یا بدن پر لگا کر نماز پڑھی تو نماز ہو گئی یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔

Answer

جو الکحول اربعہ اربعہ محرمہ: انگور کی کچی شراب، انگور کی پختہ شراب، کھجور کی شراب اور زبیب کی شراب سے بنے ہو وہ بالاتفاق حرام اور ناجائز ہیں، اور ان کی تجارت بھی جائز نہیں، لیکن ان چار کے علاوہ دیگر اشیاء سے بنے ہوں؛ مثلاً جو، آلو، شہد، مکئی، چاول وغیرہ جیسا کہ فی زماننا عام اور شائع ہے تو اس کی نجاست و حرمت میں فقہاء کا اختلاف ہے ؛ امام محمد رحمه الله کے نزدیک قلیل بھی ناپاک ہے البتہ شیخین رحمه الله کے نزدیک قلیل مقدار ناپاک نہیں اور ایسے پرفیوم کی تجارت بھی جائز ہے ۔ ملاحظہ ہو الجامع الصغیر میں مذکور ہے:

وقال في الجامع الصغير: وما سوى ذلك من الأشربة فلا بأس به، قالوا: هذا الجواب على هذا العموم والبيان لا يوجد في غيره وهو نص على أن ما يتخذ من الحنطة والشعير والعسل والذرة حلال عند أبي حنيفة رحمه الله ولا يحد شاربه عنده وإن أسكر منه

عن محمد رحمه الله أنه حرام

وكان أبو يوسف رحمه الله يقول:

ثم رجع إلى قول أبي حنيفة رحمه الله، وقوله الأول مثل قول محمد رحمه الله، ونبيذ العسل والتبن ونبيذ الحنطة والذرة والشعير حلال وإن لم يطبخ، وهذا عند أبي حنيفة رحمه الله وأبي يوسف رحمه الله إذا كان من غير لهو وطرب. (الهداية: ٤/٤۹٦، كتاب الأشربة).

مفتی مصر علامہ محمد بن بخیت مطیعی مصری کے فتاوی میں مرقوم ہے:

وما كان مستحضراً من الثمار والحبوب والأخشاب فهو طاهر، وهذا الصنف هو الرائج والغالب استعماله في المتجر على ما بلغنا ممن بحثوا عنه

أما السبيرتو المأخوذ من الأشياء الطاهرة كالحبوب والأخشاب، فالأدوية والروائح العطرية المخلوطة به طاهرة وأما السبيرتو المستخرج من الأشياء المتخمرة، وهي الخمور فإن تلاشي فيها أو تحول من طبعه، فالظاهر أنه لا بأس به. (الفتاوى للإمام محمد بن بخيت المطيعي مفتي الديار المصرية، ص ۱۹).
تكمله فتح الملهم
میں ہے:

وإنما نبهت علي هذا لأن "الكحول" المسكرة (
Alcohols
) اليوم صارت تستعمل في معظم الأدوية، ولأغراض كيمياوية أخرى، ولا تستغني عنها كثير من الصناعات الحديثة، وقد عمت بها البلوي، واشتدت إليها الحاجة، والحكم فيها على قول أبي حنيفة رحمه الله سهل، لأنها إن لم تكن مصنوعة من النيء من ماء العنب، فلا يحرم بيعها عنده، والذي ظهر لي أن معظم هذه الكحول لا تصنع من العنب، بل تصنع من غيرها

فالحاصل أن هذه الكحول، لو لم تكن مصنوعة من العنب والتمر، فبيعها للأغراض الكيمياوية جائز باتفاق بين أبي حنيفة رحمه الله وصاحبيه، وإن كانت مصنوعة من التمر أو من المطبوخ من عصير العنب، فكذلك عند أبي حنيفة رحمه الله، خلافاً لصاحبيه، ولو كانت مصنوعة من العنب النيء فبيعها حرام عندهم جميعاً، والظاهر أن معظم الكحول لا تصنع من عنب، ولا تمر، فينبغي أن يجوز بيعها لأغراض مشروعة في قول علماء الحنفية جميعاً. (تكملة فتح الملهم: ۱/۵۵۱، ط: مكتبة دار العلوم كراتشي).

منتخبات نظام الفتاوی میں مرقوم ہے:
ابتدائی دور میں الکحل جو ہر شراب یا ردی شراب (شراب کی تلچھٹ) ہوتا تھا اس لیے فقہاء نے اس کو شراب کا حکم دیا تھا اور اس کو ناپاک و حرام قرار دیا تھا اور اس کا استعمال اور دوا میں استعمال بھی ناجائز قرار دیا تھا، مگر اب الکحل سائنٹیفک طریقے سے بننے لگی ہے، کہ وہ شراب نہیں رہتی بلکہ سرکہ (خل) کے حکم میں ہو جاتی ہے اس لیے جب تک دلائل شرعیہ سے یہ یقین نہ ہو جائے کہ الکحل وہی شراب کا جوہر یا تلچھٹ ہے اس وقت تک اس کے ناپاک و حرام ہونے کا اور اس کے دوا وغیرہ میں استعمال کی ممانعت یا عدمِ جواز کا حکم نہیں دے سکتے، اور نہ استعمال کے بعد یا جسم پر لگنے کے بعد تطہیر کا حکم دینا ضروری کہہ سکتے ہیں البتہ تقوی الگ بات ہو گی اور تقاضائے احتیاط کہا جائے گا نہ کہ فتوی ۔ (منتخبات نظام الفتاوی، جلدِ اول، ص ۳۹٦، ط: اسلامک فقہ اکیڈمی، انڈیا)۔
امداد الفتاوی میں ہے: اسپرٹ اگر عنب و زبیب و رطب و تمر سے حاصل نہ کی ہو تو اس میں گنجائش ہے للاختلاف، ورنہ گنجائش نہیں للاتفاق ۔ (امداد الفتاوی: ۱/۱۳۷)۔
کتاب الفتاوی میں مذکور ہے: جس سینٹ میں الکحل ہو اس سلسلہ میں یہ تفصیل ہے کہ اگر انگور اور کھجور سے الکحل حاصل کیا گیا ہو، تو وہ شراب کے حکم میں ہونے کی وجہ سے ناپاک ہے، اس کا لگانا جائز نہیں، اور اگر لگا لیا اور الکحل لگا ہوا حصہ ہتھیلی کی گہرائی کی مقدار یا اس سے زیادہ ہو، تو اس کے ساتھ نماز کی ادائیگی درست نہیں، اگر ان دونوں کے علاوہ کسی اور شیٔ سے الکحل حاصل کیا گیا ہے، تو امام ابو حنیفہ رحمه الله کے نزدیک وہ ناپاک نہیں اور اس کا استعمال درست ہے ۔ (کتاب الفتاوی: ٦/۸۱)۔
مزید ملاحظہ ہو: (احسن الفتاوی: ۲/ ۹۵، و فقہی مقالات: ۱/۲۵۸، و فتاوی حقانیہ: ۳/۲۰۸، و انعام الباری: ٦/۲۱۲)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.