کمپنی کے مخلوط کاروبار میں حصہ لینے کا حکم:

7 min readFatwa Vol 5 #407Urdu
Vol. 5كتاب المضاربةشرکت سے متعلق احکام کا بیان

Question

اگر ایک کمپنی حرام اور حلال مخلوط کاروبار کرتی ہے تو اس کے ساتھ معاملہ کرنے یا اس میں حصہ لینے کا کیا حکم ہے؟

Answer

کمپنی کے حصص کا کاروبار مندرجہ ذیل شرائط کے ساتھ قابل قبول ہے: ۔
(۱) کمپنی کا مرکزی کاروبار شریعت کے خلاف نہ ہو ۔ مثلاً سود کی بنیاد پر تمویلی خدمات فراہم کرنا، یعنی بینک، انشورنس کمپنیوں کے حصص، یا ایسی کمپنیوں کے حصص جو کسی اور ناجائز کاروبار میں ملوث ہو، جیسے وہ کمپنیاں جو شراب، خنزیر، حرام گوشت تیار کرتی یا بیچتی ہیں، یا وہ جوا، نائٹ کلب کی سرگرمیوں اور فحاشی وغیرہ میں ملوث ہیں ۔ تو پھر ان کمپنیوں میں حصہ لینا اور ان کے ساتھ معاملہ کرنا ناجائز ہے ۔
(۲) اگر کمپنی کا مرکزی کاروبار حلال ہے مثلاً آٹوموبائل، ٹیکسٹائل وغیرہ کا کاروبار، لیکن وہ کمپنی اپنا زائد از ضرورت سرمایہ سودی اکاؤنٹ میں رکھواتی ہے یا سودی قرضے لیتی ہے تو شیئر ہولڈر پر لازم ہے کہ وہ اس طرح کے معاملات کے خلاف اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کر دے، جس کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ کمپنی کے سالانہ اجلاس عام میں اس طرح کی سرگرمیوں کے خلاف آواز اٹھائے ۔
(۳) اگر کمپنی کی آمدن میں سودی کھاتوں سے حاصل ہونے والی کچھ آمدن بھی شامل ہے تو شیئر ہولڈر کو ادا کیے گئے منافع میں سے اس تناسب سے نفع کا حصہ خیرات کر دیا جائے اور شیئر ہولڈر خود اس کا فائدہ نہ اٹھائے، مثلاً اگر کمپنی کے کل منافع میں سے پانچ فیصد اسے سودی کھاتوں سے حاصل ہوا ہے تو نفع کا پانچ فیصد خیرات کر دیا جائے ۔
مزید ملاحظہ ہو: (اسلام اور جدید معاشی مسائل: ۵/۱٦٤) ۔
امداد الفتاوی میں ہے:
سوال: عموماً سب کمپنیاں سود لیتی بھی ہیں، اور دیتی بھی ہیں، اس صورت میں ہر شریک کے حصہ میں سودی روپیہ بھی آتا ہے تو شریک کو کمپنی سے اپنے حصے کا منافع لینا جس میں سودی رقم بھی شاید مخلوط ہو جائز ہے یا نہیں؟
الجواب:
وفي المبسوط: يكره للمسلم أن يدفع إلى النصراني مالاً مضاربة وهو جائز في القضاء. (ص ۱۲۵ ج ۲۲) وفيه أيضاً: وأبو حنيفة رحمه الله يقول: الذي ولي الصفقة هو الوكيل والخمر مال متقوم في حقه يملك أن يشتريها لنفسه فيملك أن يشتريها لغيره وهذا لأن الممتنع ههنا بسبب الإسلام هو العقد على الخمر لا الملك فالمسلم من أهل أن يملك الخمر، ألا تري أنه لو تخمر عصير المسلم يبقي ملكاً له ثم إذا تخلل جاز له بيعه وأكله إذا مات قريبه عن خمر يملكها بالإرث فإن اعتبرنا جانب العقد فالعاقد من أهله وهو في حقوق العقد كالعاقد لنفسه وإن اعتبرنا جانب الملك فالمسلم من أهل ملك الخمر فيصح التوكيل. (ص ۲۱٦ ج ۱۲).
فإن قيل ذكر في الهندية في باب المضاربة بين أهل الإسلام وأهل الكفر إذا دفع المسلم إلى النصراني مالاً مضاربة بالنصف فهو جائز إلا أنه مكروه فإن اتجر في الخمر والخنزير فربح جاز على المضاربة في قول أبي حنيفة رحمه الله وينبغي للمسلم أن يتصدق بحصته من الربح وعندهما يجوز على المضاربة، وإن أربي فاشتري درهمين بدرهم كان البيع فاسداً ولكن لا يصير ضامناً لمال المضاربة والربح بينهما على الشرط. (ص ٤۰۲ ج ۵).
قلنا قوله ينبغي للمسلم أن يتصدق بحصته محمول على الورع كما هو الظاهر وإن حمل على الوجوب فهو إذا كان قد اتجر في الخمر والخنزير ولم يتجر في غيرهما وإلا فحمله على ما سيجيئ في المخلوط. وقوله في صورة إرباء الوكيل كان البيع فاسداً لا يضرنا فإن الوكيل بالبيع كالعاقد لنفسه وفساد البيع في حق الذمي لا يستلزم حرمة الربح على المسلم فإن تبدل الملك يدفع خبث الفساد وأما على قول من جوز الربا بين المسلم والكافر في دار الحرب فالأمر أوسع.

پس صورتِ مذکورہ میں مال مستفاد میں حرمت نہ ہو گی، جب کہ کمپنی قائم کرنے والے کافر ہوں، البتہ کفار کی کمپنیوں میں شرکت خود مکروہ ہے، جیسا کہ مبسوط کے قول سے معلوم ہوا، اگر مسلمانوں کی کمپنیاں بھی سودی لین دین کرتی ہوں جیسا کہ آج کل غالب یہی ہے تو کفار کی کمپنیوں کی شرکت مسلم کمپنیوں کی شرکت سے اہون ہے ۔

ولنذكر بعد ذلك حكم المال المختلط بالحرام والحلال، قال قاضيخان رحمه الله:

فإذا خلط الوكيل دراهم الربا بعضها ببعض الدراهم التي أخذها من حلال يجوز أخذ الربح منها لكون الخلط مستهلكاً عند الإمام لا سيما إذ كان الوكيل كافراً لا سيما والتقسيم مطهر عندنا كما إذا بال البقر في الحنطة وقت الدياسة فاقتسمها الملاك حل لكل واحد أكلها مع التيقن بكون الحنطة مختلطة بالطاهر والنجس ولكن القسمة أورثت احتمالاً في حصة كل واحد من الشركاء فحكمنا بطهارة نصيب كل واحد منهم فكذا ههنا إذا أربي الوكيل بالتجارة وخلط الدراهم بعضها ببعض ثم قسمها على الشركاء يحكم بحل نصيب كل واحد منهم، والله أعلم.
وأخرج البيهقي في سننه في باب كراهية مبايعة من أكثر ماله من الربا أو ثمن المحرم من طريق شعبة عن مزاحم عن ربيع بن عبد الله أنه سمع رجلاً سأل ابن عمر أن لي جاراً يأكل الربا أو قال خبيث الكسب وربما دعاني لطعامه أفأجيبه، قال: نعم.
ومن طريق مسعر عن جواب التيمي عن الحارث بن سويد قال جاء رجل إلى عبد الله يعني ابن مسعود رضي الله عنه فقال: إن لي جاراً لا اعلم له شيئاً إلا خبيثاً أو حراماً وأنه يدعوني فأحرج أن آتيه أو أتحرج أن لا آتيه؟ فقال: ائته أو أجبه فإنما وزره عليه، قال البيهقي: جواب التيمي غير قوي وهذا إذا لم يعلم أن الذي قدم إليه حرام، فإذا علم حراماً لم يأكله. (ص ۳۳۵ ج ۲).
قلت: جواب التيمي وثقه ابن حبان ويعقوب بن سفيان كما في التهذيب. (ص ۱۲۱ و۱۲۲ ج ۲).
ماخوذ از (امداد الفتاوی:
۳
/
٤۹٦
۔
٤۹۸
، کتاب الشرکۃ) ۔
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: (جدید فقہی مباحث: ۱٦/٤۵) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.