ہوٹل چلانے کی کمپنی میں حصہ لینے کا حکم:
Question
ایک کمپنی ہے جو ہوٹلوں کے بنانے اور چلانے کے کاروبار میں مشغول ہے، بعض ہوٹلیں شراب بیچنے یا دوسری خرابیوں میں ملوث ہیں، لیکن تقریباً نوے فیصد یا اس سے زیادہ آمدنی کمروں کے کرایہ وغیرہ کی ہے، کمپنی مقروض بھی نہیں ہے، نیز اگر شیئر ہولڈر دوسرے کو اس کمپنی میں حصہ لینے کی ترغیب دے تو اس کو بطورِ کمیشن فیصد کے اعتبار سے کچھ ملتا ہے ۔ کیا ایسی کمپنی میں حصہ لینے کی گنجائش ہے یا نہیں؟
Answer
بصورتِ مسئولہ مذکورہ کمپنی کی غالب آمدنی حلال ذرائع سے ہے اس وجہ سے اس میں حصہ لینے کی گنجائش ہے، ہاں سالانہ اجلاس میں خرابیوں کے بارے میں آواز اٹھانی چاہیے ۔
ملاحظہ ہو اسلام اور جدید معاشی مسائل میں ہے:
کمپنی کے حصص کا کاروبار مندرجہ ذیل شرائط کے ساتھ قابل قبول ہے: ۔
(۱) کمپنی کا مرکزی کاروبار شریعت کے خلاف نہ ہو ۔ مثلاً سود کی بنیاد پر تمویلی خدمات فراہم کرنا، یعنی بینک، انشورنس کمپنیوں کے حصص، یا ایسی کمپنیوں کے حصص جو کسی اور ناجائز کاروبار میں ملوث ہو، جیسے وہ کمپنیاں جو شراب، خنزیر، حرام گوشت تیار کرتی یا بیچتی ہیں، یا وہ جوا، نائٹ کلب کی سرگرمیوں اور فحاشی وغیرہ میں ملوث ہیں ۔ تو پھر ان کمپنیوں میں حصہ لینا اور ان کے ساتھ معاملہ کرنا ناجائز ہے ۔
(۲) اگر کمپنی کا مرکزی کاروبار حلال ہے مثلاً آٹوموبائل، ٹیکسٹائل وغیرہ کا کاروبار، لیکن وہ کمپنی اپنا زائد از ضرورت سرمایہ سودی اکاؤنٹ میں رکھواتی ہے یا سودی قرضے لیتی ہے تو شیئر ہولڈر پر لازم ہے کہ وہ اس طرح کے معاملات کے خلاف اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کر دے، جس کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ کمپنی کے سالانہ اجلاس عام میں اس طرح کی سرگرمیوں کے خلاف آواز اٹھائے ۔
(۳) اگر کمپنی کی آمدن میں سودی کھاتوں سے حاصل ہونے والی کچھ آمدن بھی شامل ہے تو شیئر ہولڈر کو ادا کیے گئے منافع میں سے اس تناسب سے نفع کا حصہ خیرات کر دیا جائے اور شیئر ہولڈر خود اس کا فائدہ نہ اٹھائے، مثلاً اگر کمپنی کے کل منافع میں سے پانچ فیصد اسے سودی کھاتوں سے حاصل ہوا ہے تو نفع کا پانچ فیصد خیرات کر دیا جائے ۔ (اسلام اور جدید معاشی مسائل: ۵/۱٦٤) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.