الکحول کا شرعی حکم:
Question
الکحول کا کیا حکم ہے؟ اس کو استعمال کرنا، اسی طرح اس کی بیع و شراء جائز ہے یا نہیں؟ آج کل اس میں ابتلائے عام ہے لہذا تفصیلی جواب مرحمت فرمائے؟ بینوا توجروا ۔
Answer
جو الکحول یا اسپرٹ، منقی، انگور، یا کھجور کی شراب سے بنایا گیا ہو وہ بالاتفاق ناپاک ہے، اس کا استعمال اور اس کی خرید و فروخت بھی ناجائز ہے ۔
وہ الکحول یا اسپرٹ جو مذکورہ بالا اشیاء کے علاوہ کسی اور چیز مثلاً جو، آلو، شہد وغیرہ کی شراب سے بنایا گیا ہو اس کی نجاست اور حرمت میں فقہاء کا اختلاف ہے امام صاحب رحمہ اللہ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک اس کی اتنی مقدار حلال ہے جس سے نشہ نہ ہو ۔ جب کہ اس کو صحیح مقصد کے لیے استعمال کیا جائے، طرب اور لہو لعب کے طور پر نہ ہو ۔ اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک تھوڑی مقدار بھی ناجائز ہے، عام حالات میں فتوی امام محمد رحمہ اللہ کے قول پر ہے مگر اسپرٹ میں عمومِ بلوی کی وجہ سے شیخین کے قول کے مطابق گنجائش ہے ۔
نیز جن صورتوں میں الکحول یا اسپرٹ کے استعمال کی اجازت ہے ان صورتوں ان کی بیع و شراء کی بھی اجازت ہو گی ۔
ملاحظہ ہو صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں:
وقال في الجامع الصغير وما سوى ذلك من الأشربة فلا بأس به قالوا: هذا الجواب على هذا العموم والبيان لا يوجد في غيره وهو نص على أن ما يتخذ من الحنطة والشعير والعسل والذرة حلال عند أبي حنيفة رحمه الله ولا يحد شاربه عنده وإن أسكر منه
وعن محمد أنه حرام
وكان أبو يوسف رحمه الله يقول
ثم رجع إلى قول أبي حنيفة رحمه الله وقوله الأول مثل قول محمد رحمه الله
قال: ونبيذ العسل والتين ونبيذ الحنطة والذرة والشعير حلال وإن لم يطبخ وهذا عند أبي حنيفة رحمه الله وأبي يوسف رحمه الله إذا كان من غير لهو وطرب. (الهداية: ٤/٤۹٦، ٤۹۷، كتاب الأشربة).
تكمله فتح الملهم
میں ہے:
وبيع الأشربة المحرمة أو المسكرة منعقد عندهم مع الكراهة. والظاهر أن هذه الكراهة إنما تثبت إذا تعاطاه الرجل لغرض غير مشروع، وأما إذا تعاطاه لغرض مشروع، كالدواء، والضماد وغيره فيما يجوز استعماله فيه، فالظاهر أن لا كراهة أيضاً. وإنما نبهت على هذا لأن "الكحول" المسكرة (
Alcohols
) اليوم صارت تستعمل في معظم الأدوية ولأغراض كيمياوية أخري، ولا تستغني عنها كثير من الصناعات الحديثة، وقد عمت بها البلوى، واشتدت إليها الحاجة، والحكم فيها على قول أبي حنيفة رحمه الله سهل، لا نها إن لم تكن مصنوعة من النيء من ماء العنب، فلا يحرم بيعها عنده، والذي ظهر لي أن معظم هذه الكحول لا تصنع من العنب، بل تصنع من غيرها، وراجعت له دائرة المعارف البريطانية المطبوعة: ۱۹۵۰ م (۱/۵٤٤) فوجدت فيها جدولاً للمواد التي تصنع منها هذه الكحول، فذكر في جملتها العسل، والدبس، والحب، والشعير، والجودار، وعصير أناناس (التفاح الصوبري)، والسلفات، والكبريتات، ولم يذكر فيه العنب والتمر.
فالحاصل أن هذه "الكحول" لو لم تكن مصنوعة من العنب والتمر، فبيعها للأغراض الكيمياوية جائز باتفاق بين أبي حنيفة رحمه الله وصاحبيه، وإن كانت مصنوعة من التمر أو من المطبوخ من عصير العنب، فكذلك عند أبي حنيفة رحمه الله، خلافاً لصاحبيه، ولو كانت مصنوعة من العنب النيء فبيعها حرام عندهم جميعاً، والظاهر أن معظم "الكحول" لا تصنع من عنب، ولا تمر، فينبغي أن يجوز بيعها لاغراض مشروعة في قول علماء الحنفية جميعاً. (تكملة فتح الملهم: ۱/۵۵۱، حكم الكحول المسكرة).
علامہ محمد بن بخیت المطیعی مفتی الدیار المصریہ (۱۲۷۱ ۔ ۱۳۵٤ ھ) فرماتے ہیں:
وما كان مستحضراً من الثمار والحبوب والأخشاب فهو طاهر، وهذا الصنف هو الرائج والغالب استعماله في المتجر على ما بلغنا ممن بحثوا عنه.
بقي ما لو أضافوا السبيرتو على الأدوية، وعلى الروائح العطرية كالكلونيا، لا صلاحها فهل يعفي عنه؟ فنقول: أما السبيرتو المأخوذ من الأشياء الطاهرة كالحبوب والأخشاب، فالأدوية والروائح العطرية المخلوطة به طاهرة. (الفتاوى للامام العلامة محمد بن بخيت المطيعي مفتي الديار المصرية، ص ۱۹، ط: دار الصديق للعلوم).
امداد الفتاوی میں ہے:
اسپرٹ اگر عنب و زبیب و رطب و تمر سے حاصل نہ کی گئی ہو تو اس میں گنجائش ہے للاختلاف ورنہ گنجائش نہیں للاتفاق ۔ (امداد الفتاوی: ۱/۱۳۷، و ٤/۲۰۹) ۔
حضرت مفتی نظام الدین صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
الکحول اصل میں شراب کے جوہر کو اور تلچھٹ کو کہتے ہیں دواؤں میں عام طور پر اسپرٹ ڈالی جاتی ہے اور اسپرٹ کا ان چار شرابوں کی جنس سے ہونا ضروری نہیں جو نجس العین ہوتی ہیں بلکہ گڑ وغیرہ سے بھی بن جاتی ہے، لہذا جب تک دلیل شرعی سے ثابت نہ ہو جائے کہ یہ اسپرٹ جو اس دوا میں پڑی ہوئی ہے وہ انہی شرابوں کا جوہر یا تلچھٹ ہے جو نجس العین ہوتے ہیں اس وقت تک اس اسپرٹ کو ناپاک و نجس نہیں کہہ سکتے اور اس کا استعمال کرنا یا ان دواؤں کا استعمال کرنا جس میں یہ اسپرٹ پڑی ہونا جائز و حرام نہیں کہہ سکتے ۔ (منتخباتِ نظام الفتاوی ص ۳٦۱) ۔
نظام الفتاوی کی عبارت کا خلاصہ یہ ہے کہ اشربہ اربعہ محرمہ کے علاوہ سے بنایا گیا ہو تو اس میں گنجائش ہے ۔
کتاب الفتاوی میں ہے:
اور جو الکحول انگور کے علاوہ کسی اور چیز سے حاصل کیا گیا ہو، از راہِ نشہ اس کا استعمال کرنا بھی حرام ہے، دوا کے طور پر ظاہر ہے کہ اس کا استعمال بدرجۂ اولی جائز ہے (کتاب الفتاوی: ٦/۲۰۷) ۔
انعام الباری میں ہے:
الکحول کے بارے میں فتوی یہ ہے کہ یہ نجس نہیں ہے اور اس کی بیع جائز ہے اس لیے کہ اس کا استعمال بھی ممکن ہے جیسے دوا وغیرہ کے اندر استعمال کیا جاتا ہے یا دوسرے سائنٹیفک اغراض کے لیے اسی سے روشنائی بناتے ہیں اور خوشبو کے اندر بھی ڈالی جاتی ہے وغیرہ وغیرہ، اس واسطے اس کی خرید و فروخت جائز ہے ۔ (انعام الباری: ٦/۲۱۲) ۔
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: (جدید معاملات کے شرعی احکام: ۱/۹٦ ۔ ۹۸، و کتاب الفتاوی: ٦/۲۰٦ ۔ ۲۰۷، وتکملۃ فتح الملہم: ۳/۵۹۹ ۔ ٦۰۸، باب تحریم الخمر، واسلام اور جدید معاشی مسائل: ٤/۱۱) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.