قربانی کا سارا گوشت خود کھا لینے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 6 #145Urdu
Vol. 6كتاب الصيد والذبائحباب (۳): أحكام الأضحية

Question

ہمارے یہاں بحمد اللہ ہر سال قربانی ہوتی ہے، لیکن کچھ تھوڑا بہت گوشت رشتہ داروں میں دے کر دوسرا گھر میں رکھ لیتے ہیں، اور خود کھاتے ہیں، اور رشتہ دار اور مہمان کی آمد پر پکایا جاتا ہے، اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا اس طرح کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اس طرح کرنے سے قربانی ادا ہوتی ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا۔

Answer

قربانی کے گوشت کے بارے میں مستحب یہ ہے کہ ایک تہائی فقراء، مساکین پر تقسیم کیا جائے، اور ایک تہائی اعزہ و اقارب کو دیا جائے، اور ایک تہائی اپنے گھر کے بال بچوں کے لیے رکھا جائے، یہ تقسیم فقط مستحب ہے لازم اور ضروری نہیں ہے، بایں وجہ اگر کوئی شخص سارا گوشت خود کھا لے تب بھی قربانی بلا کراہت ادا ہو جاتی ہے، قربانی کا مقصدِ اصلی اراقہ ہے جو حاصل ہو گیا۔ لہذا سوال میں مذکورہ طریقہ بھی بلا کراہت درست ہے، قربانی ادا ہو گئی۔ ہاں ابتداء ً نیت قربانی ہی کی ہو فقط گوشت کھانا مقصود نہ ہو۔
ملاحظہ ہو بدائع الصنائع میں ہے:

والأفضل أن يتصدق بالثلث ويتخذ الثلث ضيافة لا قاربه وأصدقائه ويدخر الثلث لقوله تعالى: ﴿فكلوا منها وأطعموا القانع والمعتر﴾ وقوله عز شأنه: ﴿فكلوا منها وأطعموا البائس الفقير﴾ وقول النبي ﷺ: كنت نهيتكم عن لحوم الأضاحي فكلوا منها وادخروا"، فثبت مجموع الكتاب العزيز والسنة أن المستحب ما قلنا ولأنه يوم ضيافة الله عز وجل بلحوم القرابين فيندب إشراك الكل فيها ويطعم الفقير والغني جميعاً لكون الكل أضياف الله تعالى عز شأنه في هذه الأيام وله أن يهبه منهما جميعاً ولو تصدق بالكل جاز ولو حبس الكل لنفسه جاز لأن القربة في الإراقة وأما التصدق باللحم فتطوع وله أن يدخر الكل لنفسه فوق ثلاثة أيام لأن النهي عن ذلك كان في ابتداء الإسلام ثم نسخ. (بدائع الصنائع: ۵/۸۱، سعيد).
وللمزيد انظر: (رد المحتار: ٦/۳۲۸، سعيد، والفتاوى الهندية: ۵/۳۰۰، وإعلاء السنن: ۱۷/۲٦۲، إدارة القرآن، وفتاوى بينات: ٤/۵۷٤، وآپ كے مسائل اور ان كا حل: ۵/٤٦۱، جديد ايڈيشن).

فتاوی محمودیہ میں ہے:
قربانی کا گوشت پکا کر کھلانا اور دعوت کرنا بھی درست ہے۔ (فتاوی محمودیہ:
۱۷
/٤
۳۲
، جامعہ فاروقیہ)۔
البتہ جو شخص ذو عیال ہو اور معاشی تنگی کا شکار ہو اس کے لیے مستحب یہ ہے وہ سارا گوشت اپنے اہل عیال رکھ لے۔ اس کے حق میں صدقہ مستحب نہیں ہے۔
ملاحظہ ہو بدائع الصنائع میں ہے:

والتصدق أفضل إلا أن يكون الرجل ذا عيال وغير موسع الحال فإن الأفضل له حينئذٍ أن يدعه لعياله ويوسع عليهم لأن حاجته وحاجة عياله مقدمة على حاجة غيره، قال النبي ﷺ: "ابدأ بنفسك ثم بغيرك". (بدائع الصنائع: ۵/۸۱، سعيد).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.