ایک شریک کے گوشت کی نیت کرنے سے قربانی کا حکم:

4 min readFatwa Vol 6 #111Urdu
Vol. 6كتاب الصيد والذبائحباب (۳): أحكام الأضحية

Question

اگر شرکاء میں سے ایک شریک گوشت کی نیت کرتا ہے، تو اس کے ساتھیوں کی قربانی ادا ہو گی یا نہیں؟ حالانکہ قربانی کا گوشت کھانا شرعاً مندوب و مرغوب ہے، اسی وجہ سے قربانی کا فربہ ہونا مطلوب ہے، تو پھر گوشت کی نیت کیوں قبیح ہے، اور عام طور پر لوگ گوشت کی نیت بھی کرتے ہیں ۔ بینوا توجروا ۔

Answer

عام طور پر کتبِ فقہیہ میں یہ عبارت ملتی ہے کہ شرکاء میں سے اگر کوئی شریک گوشت کی نیت کرتا ہے تو قربانی ادا نہیں ہوتی ۔ لیکن اس عبارت کا مطلب یہ ہے کہ وہ شخص صرف گوشت کے حصول کے لیے قربانی کرتا ہے اس کو واجب یا عبادت نہیں سمجھتا ہے، اگر وہ شخص اس کو کارِ ثواب سمجھتے ہوے گوشت کی اچھائی اور بہتری چاہتا ہے تو یہ درست ہے اور شرعاً مطلوب ہے، ورنہ پھر احادیث اور فقہ کی کتابوں میں فربہ اور موٹے جانور کا مطلوب و مامور ہونا بے کار ہو جائے گا ۔
ترمذی شریف میں ہے:

عن أبي سعيد رضي الله عنه قال: كان رسول الله ﷺ يضحي بكبشن أقرن فحيل ينظر في سواد ويأكل في سواد ويمشي في سواد. (رواه الترمذي رقم: ۱٤۹٦، وأبو داود رقم: ۲۷۹۸، والنسائي رقم: ٤۳۹۰، وابن ماجه رقم: ۳۱۲۸، وصحيح ابن حبان رقم: ۵۹۰۲، قال الشيخ شعيب: إسناده صحيح على شرط مسلم).

ترجمہ: حضرت ابو سعید
رضي الله عنه
فرماتے ہیں کہ رسولِ اکرم ﷺ ایسے سینگ دار فربہ دنبہ کی قربانی فرماتے تھے جو سیاہی میں دیکھتا تھا یعنی اس کی آنکھوں کے گرد سیاہی تھی، سیاہی میں کھاتا تھا یعنی اس کا منہ بھی سیاہ تھا اور سیاہی میں چلتا تھا یعنی اس کے پاؤں بھی سیاہ تھے ۔
حدیثِ بالا کی شرح میں علماء تحریر فرماتے ہیں کہ ایسے جانور کی قربانی کرنا افضل اور مستحب ہے جو بہت زیادہ فربہ اور موٹا تازہ ہو ۔ چنانچہ ایک فربہ بکری کی قربانی دو دبلی بکریوں کی قربانی سے افضل ہے، ایسے ہی زیادہ گوشت والی بکری کی قربانی کم گوشت والی بکری سے افضل ہے بشرطیکہ گوشت خراب نہ ہو ۔
ملاحظہ فرمائیں ملا علی قاری رحمہ اللہ مرقات شرح مشکوۃ میں فرماتے ہیں:

قال العلماء يستحب للتضحية الأسمن الأكحل حتى أن التضحية بشاة سمينة أفضل من شاتين وكثرة اللحم أفضل من كثرة الشحم إلا أن يكون اللحم رديئاً. (مرقاة المفاتيح: ۳/۳۱۱، ط: ملتان).
وفي بدائع الصنائع: وأما الذي يرجع إلى الأضحية فالمستحب أن يكون اسمنها وأحسنها وأعظمها لا نها مطية الآخرة. (بدائع الصنائع: ۵/۸۰، سعيد).
وفي رد المحتار: قد علم أن الشرط قصد القربة من الكل، وشمل ما لو كانت القربة واجبة على الكل أو البعض اتفقت جهاتها أولا

لأن المقصود من الكل القربة، وكذا لو أراد بعضهم العقيقة عن ولد قد ولد له من قبل لأن ذلك جهة التقرب بالشكر على نعمة الولد ذكره محمد ولم يذكر الوليمة. وينبغي أن تجوز لا نها تقام شكراً لله تعالى على نعمة النكاح ووردت بها السنة، فإذا قصد بها الشكر أو إقامة السنة فقد أراد القربة

وقد ذكر في غرر الأذكار: أن العقيقة مباحة على ما في جامع المحبوبي أو تطوع على ما في شرح الطحاوي، وما مر يؤيد أنها تطوع، على أنه وإن قلنا مباحة لكن بقصد الشكر تصير قربة، فإن النية تصير العادات عبادات والمباحات طاعات. (رد المحتار: ٦/۳۲٦، سعيد).

تنبیہ: واضح ہو کہ مذہبِ احناف میں مشہور قول کے مطابق عقیقہ مستحب ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.