کانٹے سے مچھلی کے شکار کا حکم:
Question
بعض حضرات فرماتے ہیں مچھلی کے شکار کے لیے دھاگے میں کانٹا لگانا مچھلی کے لیے تعذیب ہے لہذا یہ جائز نہیں ہے؟
Answer
مچھلی کے شکار کے لیے کانٹے کا لگانا قدیم زمانہ سے متعارف اور جائز ہے، فقہاء نے بغیر انکار و نکیر کے اس کو ذکر فرمایا ہے ۔
ملاحظہ ہو شرحِ تحفۃ الملوک میں ہے:
ولو نصب شبكة فوقع فيها صيداً أو رمي شصّاً [ "حديدة معقوفة مخصصة لصيد السمك" وهو بالفتح والكسر شيء يصاد به السمك ] فتعلقت به سمكة، فاضطربا أي تحركا حتى انقطعت الشبكة، وخيط الشص فخلصا أي وصل أحدهما إلى الآخر فصادهما آخر فهما له. (شرح تحفة الملوك مع التعليقات: ۲/۱۷۳۲).
عبارت کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر کسی شخص نے شکار کے لیے جال یا کانٹا لگا دیا اور اس میں ایک مچھلی پھنس گئی پھر دوسری مچھلی آئی اور پہلی کے ساتھ لٹک گئی اور دونوں چھوٹ گئیں پھر دوسرے شخص نے دونوں مچھلیوں کا شکار کیا تو دونوں مچھلیاں دوسرے آدمی کی ہو گئیں ۔
مذکورہ بالا عبارت میں کانٹے سے شکار کرنے کی تصریح اور جواز مرقوم ہے ۔
منیۃ الصیادین کی عبارت سے بھی جواز مترشح ہوتا ہے ۔ عبارت ملاحظہ ہو:
وفي الخلاصة: الشص (وهو حديدة عقفاء يصاد بها السمك) إذا رمي به الرجل في الماء، فتعلق به السمك: إن رمي به خارج الماء في موضع يقدر على أخذه، فاضطرب فوقع في الماء، ملكه، فليس لرجل آخر أخذه بالاصطياد، وإن انقطع الحبل قبل أن يخرجه من الماء، لا يملكه.
ولو لدغت سمكة حية في الماء وقتلتها، أو أصابتها حديدة، أو أكلت شيئاً ألقاه في الماء، أو قتلها شيء من طير الماء أو غيره، تؤكل، لا نها ماتت بسبب. (منية الصيادين، ص ۱۳۷، ۱۳۸، الفصل الثالث في بيان صيد البحر وأحكامه).
فتاوی رشیدیہ میں ہے:
سوال: ایک کیڑے کو جس کا نام گھینسا ہے اس کو توڑ توڑ کر اور کانٹے میں لگا کر شکار ماہی کا کرتے ہیں پس ایسا شکار کرنا اور اس مچھلی کا کھانا کیسا ہے؟
جواب: اول اس کو مار کر پھر ٹکڑے کر کے کانٹے میں لگانا درست ہے اور زندہ کو لگانا منع ہے کہ اذیت ذی روح کی مکروہِ تحریمی ہے ۔ (فتاوی رشیدیہ، ص:
۵۸۱
، ط: کراچی) ۔
اس عبارت سے پتا چلتا ہے کہ مچھلی کے شکار کے لیے کانٹے کا استعمال درست ہے ۔ اس میں تعذیبِ حیوان نہیں ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.