نابالغ بچہ کے شکار کا حکم:
Question
اگر کسی نابالغ بچہ نے شکار کیا تو والدین وغیرہ اس میں سے کھا سکتے ہیں یا نہیں؟ اگر بچہ نے بسم اللہ پڑھی اور ہوشیار ہے تو والدین اس میں سے کھا سکتے ہیں یا نہیں؟ اگر مچھلی کا شکار کیا جس میں تسمیہ کی ضرورت نہیں تو اس میں سے کھا سکتے ہیں یا نہیں؟
Answer
بصورتِ مسئولہ اگر نابالغ بچہ تسمیہ کو اچھی طرح نہیں سمجھتا ہے تو شکار حلال نہیں ہو گا اور کسی کے لیے کھانے کی گنجائش نہیں ہو گی، البتہ اگر نابالغ بچہ ہوشیار اور سمجھدار ہو، تسمیہ بھی اچھی طرح جانتا ہو اور بسم اللہ پڑھ کر ذبح کرے یا شکار کرے تو اس کا ذبیحہ اور شکار حلال ہو گا، اور مچھلی کے شکار میں تسمیہ کی ضرورت و حاجت نہیں ۔ پھر عرف کی وجہ سے والدین کے لیے کھانے کی اجازت ہو گی ۔
ملاحظہ ہو عالمگیری میں ہے:
ينبغي أن يكون الصياد من أهل الذكاة وذلك بأن يعقل الذبح والتسمية حتى لا يؤكل صيد الصبي والمجنون إذا كانا لا يعقلان الذبح والتسمية. (الفتاوى الهندية: ۵/٤۲۱).
ہدایہ میں ہے:
إذا كان يعقل التسمية والذبحة يضبط وإن كان صبياً أو مجنوناً أو امرأة أما إذا كان لا يضبط ولا يعقل التسمية فالذبحة لا تحل لأن التسمية على الذبيحة شرط بالنص وذلك بالقصد وبما ذكرنا. (الهداية: ٤/٤۳٤).
تحفة الملوك
میں ہے:
والصبي والمجنون، والسكران، إن كان يقدر على الذبح، ويعقل التسمية، حل وإلا فلا. (تحفة الملوك، ص ۲۱٦، دار البشائر الإسلامية).
الدر المختار میں ہے:
ويباح لوالديه أن يأكلا من مأكول وهب له وقيل لا، فأفاد أن غير المأكول لا يباح لهما إلا لحاجة. وفي رد المحتار: قال في التاتارخانية: روي عن محمد نصاً أنه يباح. (الدر المختار مع فتاوى الشامي: ۵/٦۹٦، سعيد).
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: (فتاوی دار العلوم زکریا، جلدِ پنجم، ابواب الہبہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.