غیر ماکول اللحم جانور کے شکار کا حکم:

2 min readFatwa Vol 6 #56Urdu
Vol. 6كتاب الصيد والذبائحباب (۱): ذبح کرنے کے احکام کا بیان

Question

بعض لوگ شکار کے لیے جاتے ہیں اور شیر، چیتا، بھیڑیا وغیرہ کا بھی شکار کر لیتے ہیں جب کہ یہ حرام جانوروں میں سے ہیں، لیکن ان کی کھال یا اجزاء جسم کی اور کوئی چیز مقصود ہوتی ہے تو کیا ان جانوروں کا شکار کرنے کی شرعاً گنجائش ہو گی یا نہیں؟

Answer

شکار کرنا جائز اور درست ہے خواہ ماکول اللحم جانور کا ہو یا غیر ماکول اللحم کا ہو، جب کہ اس شکار سے شکاری کی کوئی مشروع اور جائز غرض وابستہ ہو، مثلاً ماکول اللحم کا گوشت کھانا مقصود ہو اور غیر ماکول اللحم جانور کے پر، بال، کھال، سینگ یا ہڈی وغیرہ مقصود و مطلوب ہو یا فقط دفعِ اذیت مقصود ہو تو شکار کرنے کی گنجائش ہے البتہ محض لہو لعب اور تضییع اوقات ہی مقصود ہو تو نا جائز ہے ۔
ملاحظہ ہو ہدایہ میں ہے:

قال ويجوز اصطياد ما يؤكل لحمه من الحيوان وما لا يؤكل لا طلاق ما تلونا (أي: وإذا حللتم فاصطادوا)، والصيد لا يختص بمأكول اللحم، قال قائلهم:
صيد الملوك أرانب وثعالب

٭

وإذا ركبت فصيدي الأبطال
ولأن صيده سبب للانتفاع بجلده أو شعره أو ريشه أو لاستدفاع شره وكل ذلك مشروع. (الهداية: ٤/۵۱۵، كتاب الصيد).
وفي رد المحتار: قوله لنفع ما أي ولو قليلاً، والهرة لو مؤذية لا تضرب ولا تفرك أذنها بل تذبح. (رد المحتار: ٦/٤۷٤، سعيد).
وللاستزادة انظر: (البحر الرائق: ۸/۲۳۱، وكوئته، والجوهرة النيرة: ۲، إمدادية، واللباب في شرح الكتاب: ٤/۵۵۸، وتبيين الحقائق: ۵/، وفتح القدير: ۹/۱۳٤، دار الفكر، ومجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.