تکلیف زدہ جانور کو راحت دینے کے لیے مارنے کا حکم:

1 min readFatwa Vol 8 #41Urdu
Vol. 8باب (۱۱): حیوانات سے متعلق احکام کا بیان

Question

اگر کوئی غیر ماکول اللحم جانور مثلاً: کتا وغیرہ سخت بیمار ہو اور تکلیف میں ہو تو اس کو ذبح کر دینا تاکہ ختم ہو جائے اور مسلسل تکلیف سے نجات مل جائے۔ درست ہے یا نہیں ؟ بینوا توجروا۔

Answer

بصورتِ مسئولہ جانور کو تکلیف سے راحت پہنچانے کی غرض سے ذبح کر دینا جائز اور درست ہے، جیسے فقہاء نے لکھا ہے کہ غیر ماکول اللحم جانور کا شکار جائز اور مباح ہے۔
ملاحظہ ہو فتاوی ہندیہ میں مرقوم ہے:
وكذا الحمار إذا مرض ولا ينتفع به فلا بأس بأن يذبح فيستراح منه كذا في الفتاوى العتابية. (الفتاوى الهندية: ۵/۳٦۱).

تبیین الحقائق میں مذکور ہے:

وحل اصطياد ما يوكل لحمه وما لا يوكل لقوله تعالى: ﴿وإذا حللتم فاصطادوا﴾ مطلقاً من غير قيد بالمأكول إذ الصيد لا يختص بالمأكول. (تبيين الحقائق: ٦/٦۱، ط: إمدادية، ملتان). وكذا في البحر: ۸/۲۳۱).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.