سیلاب زدہ کو دوبارہ مسنون کفن دینے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 9 #213Urdu
Vol. 9باب… )۲( نماز سے متعلق متفرق مسائل

Question

اگر سیلاب کی وجہ سے زمین سے کچھ مردے باہر آ گئے تو ان کو دوبارہ کفن دینا چاہیے یا صرف کپڑے میں لپیٹ کر دفن کر دینا کافی ہے؟ بینوا توجروا ۔

Answer

اگر ان مردوں کا جسم صحیح سالم ہے تو مسنون کفن دے کر دفنایا جائے گا، لیکن اگر جسم خراب ہو چکا ہے تو کسی کپڑے میں لپیٹ کر دفن کر دیا جائے گا سنت کفن نہیں دیا جائے گا ۔ ملاحظہ ہو در مختار مع رد المحتار میں ہے:

وآدمي منبوش طري لم يتفسخ يكفن كالذي لم يدفن مرة بعد أخرى وإن تفسخ كفن في ثوب واحد. وفي الشامية: قوله منبوش طري أي بأن وجد منبوشاً بلا كفن، قوله لم يتفسخ قيد به لأنه لو تفسخ يكفن في ثوب واحد كما صرح به بعده. قوله كالذي لم يدفن أي يكفن في ثلاثة أثواب، قوله مرة بعد أخرى، أي لو نبش ثانياً وثالثاً وأكثر كفن كذلك ما دام طرياً من أصل ماله عندنا. (الدر المختار مع رد المحتار: ۲/۲۰۵، سعيد).

مزید ملاحظہ ہو : (
فتح القدير: ۲/۱۱۳، دار الفكر، وبدائع الصنائع: ۱/۳۰۹، سعيد، والبحر الرائق: ۲/۱۷۷، والفتاوى السراجية، ص ۱۳۰).

عمدۃ الفقہ میں مذکور ہے:
اگر کسی کو کفن دے کر دفن کیا اور اس کا کفن چوری ہو گیا تو اگر وہ تازہ دفن ہوا ہے یعنی اس کی لاش ابھی تازہ ہے اور پھٹی نہیں ہے تو اس کے مال سے اس کو دوبارہ کفنِ مسنون دیں اور اگر پھر چوری ہو جائے تو پھر کفن دیں اور جب تک وہ مردہ پھٹے نہیں جتنی دفعہ بھی کفن چوری ہو جائے دیتے رہیں، اگر اس کا مال وارثوں میں تقسیم ہو گیا ہے تو کفن کی مقدار ان کے حصہ کے مطابق ان سے واپس لیا جائے کیوں کہ میت اب بھی اس کی مالک ہے اور اگر لاش پھٹ چکی ہے تو کفن مسنون کی ضرورت نہیں ایک کپڑے میں لپیٹ دینا کافی ہے ۔ (عمدۃ الفقہ: ۲/۵۰۷) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.