جانوروں کی پوست انبازی اور شکار کا تمغا رکھنے کا حکم:

5 min readFatwa Vol 8 #40Urdu
Vol. 8باب (۱۱): حیوانات سے متعلق احکام کا بیان

Question

شکاری لوگ بعض مرتبہ کوئی اچھے جانور کا شکار کرتے ہیں مثلاً: شیر یا دیگر غیر ماکول جانور کا، پھر اس کی کھال کو دباغت دینے اور صاف کرنے کے بعد اس میں گھاس وغیرہ کوئی چیز بھر کر اس کو بطورِ یادگار رکھتے ہیں۔ نیز کبھی صرف سر، یا دانت یا سینگ کا تمغا رکھتے ہیں۔ کیا ان چیزوں کا رکھنا جائز ہے یا نہیں ؟ بینوا توجروا۔

Answer

بصورتِ مسئولہ خنزیر نجس العین کے استثناء کے ساتھ تمام جانوروں کی کھالیں، شرعی طور پر ذبح کرنے سے پاک ہو جاتی ہیں، نیز دباغتِ شرعیہ سے بھی پاک ہو جاتی ہیں اور اس کا خارجی استعمال جائز اور درست ہو جاتا ہے۔ بنا بریں شکار کا تمغا بنانا اور گھر میں رکھنا جائز اور درست ہے۔
نیز یہ تصویر کے حکم میں نہیں ہے کیوں کہ تصویر کا مطلب یہ ہے کہ اپنے ہاتھ کے مصنوع کو اللہ تعالی کی مخلوق کے مشابہ بنانا، اور صورتِ مسئولہ میں اللہ تعالی ہی کی مخلوق میں کوئی چیز بھر دینا ہے کھال بھی مخلوقِ خدا ہے اور بھری ہوئی چیز بھی، لہذا یہ تصویر محرم کے حکم میں نہیں ہے۔ ملاحظہ ہو جانوروں کے اجزاء کا استعمال جائز اور درست ہے:

قال الإمام محمد: ولا بأس ببيع عظام الميتة وعصبها وعقبها وصوفها وشعرها وقرنها ووبرها والانتفاع بذلك كله. وقال في النافع الكبير: قوله، ولا بأس الخ، الدليل ما أخرجه الدارقطني عن ابن عباس رضي الله عنه فإنما حرم رسول الله ﷺ من الميتة لحمها فأما الجلد والشعر والصوف فلا بأس، وأخرج عن ابن عباس رضي الله عنه سمعت رسول الله ﷺ يقول: قال الله: قل لا أجد فيما أوحي إلى محرماً على طاعم يطعمه إلا أن يكون ميتة، الخ، أن كل شيء من الميتة حلال إلا ما أكل فأما الجلد والشعر والقرن والصوف والسن والعظم فكله حلال لأنه لا يذكي، وفي إسنادها ضعف. (الجامع الصغير مع النافع الكبير: ۳۲۹، باب ما يجوز بيعه ومالا يجوز، ط: عالم الكتب بيروت).

مخصوص منافع کے تحت غیر ماکول اللحم جانوروں کا شکار کرنا جائز ہے۔ ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:

وحل اصطياد ما يوكل لحمه وما لا يوكل لحمه لمنفعة جلده أو شعره أو ريشه أو لدفع شره وكله مشروع لا طلاق النص. وفي القنية: يجوز ذبح الهرة والكلب لنفع ما. (الدر المختار: ٦/٤۷٤، سعيد). (وكذا في البحر الرائق: ۸/۲٦۳، وتبيين الحقائق: ٦/٦۱).
وقال في الهداية: وكل إهاب دبغ فقد طهر جازت الصلاة فيه والوضوء منه إلا جلد الخنزير والآدمي

ثم ما يطهر جلده بالدباغ يطهر بالذكاة لأنه يعمل عمل الدباغ في إزالة الرطوبات النجسة. (الهداية: ۱/ ٤۰، ط: مكتبة شركة علمية). (وكذا في البدائع: ۱/۸۵، سعيد، وفتاوى الشامي: ۱/۲۰۵، سعيد).

امداد الفتاوی میں مرقوم ہے:
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کی بھینس کا بچہ مرگیا اور وہ بھینس بغیر بچہ کے دودھ نہیں دیتی اگر اس مردہ بچہ کی کھال نکلوا کر اور اس میں بھس وغیرہ بھر کر بھینس کو دکھلا کر دودھ لینے کی غرض سے رکھ لیا جاوے تو کیا اس طرح مردہ بچہ کو قائم رکھنا اور دودھ پینا جائز ہے یا نہیں ؟
الجواب: جائز ہے۔ (امداد الفتاوی:
٤
/
۱۵٤
)۔ (و کذا فی فتاوی محمودیہ:
۱۸
/
۲٤٦
، ط: جامعہ فاروقیہ)۔
فتاوی محمودیہ میں مرقوم ہے:
سوال: شکاری لوگ شیر، چیتے وغیرہ کا شکار کرنے کے بعد اس کا چمڑا اس طرح نکالتے ہیں کہ پورا سراس کے ساتھ رہنے دیتے ہیں، پھر چمڑے کو دباغت کر لیتے ہیں، سر کا اندرونی حصہ بھی کسی طرح صاف کر لیتے ہیں اور اس چمڑے کو جس کے ساتھ پورا سر مع آنکھ وغیرہ کے ہوتا ہے گھر میں رکھتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح حیوان کے سر کو رکھنا جائز ہے یا تصویر کی طرح اس کا رکھنا بھی جائز نہ ہوگا؟
الجواب: یہ تصویر کے حکم میں نہیں۔ فقط واللہ سبحانہ و تعالی اعلم۔ (فتاوی محمودیہ:
۱۹
/
٤۹۹
، جامعہ فاروقیہ)۔
فتاوی علماء البلد الحرام میں مذکور ہے:

سؤال: هناك بعض الطيور كالحمام والصقور المحنطة والتي تباع في الأسواق للمنظر أو كالتحفة وبما أن هذه الطيور من خلق الله ولا يوجد بها تغير، لذلك نرغب من سماحتكم ما هو الحكم فيمن يضعها في منزله.
جواب: لا تعتبر ذلك من التصوير، ولا من مضاهاة خلق الله ولا اقتناء الصور التي ورد النهي عنها في الأحاديث

الخ. (فتاوى علماء البلد الحرام).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.