گدھے کا گوشت حرام ہونے کی حکمت:
Question
گدھا گھاس کھاتا ہے پھر اس کی حرمت کی کیا حکمت ہے؟ حدیث شریف سے اس کی حرمت واضح ہے، لیکن گھاس کھانے کی وجہ سے شبہ پیدا ہوتا ہے ۔ بینوا توجروا ۔
Answer
اسلام کا دستور ہے کہ وہ اپنے ماننے والوں کو اخلاقِ عالیہ اور صفاتِ فاضلہ کی تعلیم دیتا ہے اور ہر قسم کی بد اخلاقی بد تمیزی اور صفاتِ خسیسہ و دنیہ سے روکتا ہے، یہ بات مسلم ہے کہ ان صفات کا صدور اندرونی غذا کے اثرات سے ہوتا ہے، بنا بریں شریعتِ مطہرہ نے اچھے جانوروں کے گوشت کو حلال کیا اور بری اور قبیح صفات والے جانوروں کو حرام قرار دیا، اور گدھے کا شمار بری عادات والے جانوروں میں ہوتا ہے، اس لیے اس کا گوشت حرام قرار دیا گیا تاکہ اس کی قبیح عادات انسانی جوہر کو فاسد نہ کر دے ۔
گدھے کی چند قبیح عادات حسبِ ذیل ملاحظہ کیجیے:
(۱) حمار میں حماقت معروف و مشہور ہے ۔ حتی کہ بے وقوفی میں ضرب المثل ہے ۔
(۲) حمار گھاس کھاتا ہے لیکن اگر گندگی مل جاتی ہے تو وہ بھی کھاتا ہے ۔
(۳) اس کا گوشت انسانی طبیعت کے موافق نہیں اس کے کھانے سے انسان میں حمار جیسی خصلتیں پیدا ہوں گی، اس لیے شریعت نے اس کو حرام قرار دیا ۔
شاہ ولی اللہ صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
اعلم أنه لما كانت سعادة الإنسان في الأخلاق الأربعة التي ذكرناها وشقاوته في أضدادها أوجب حفظ الصحة النفسانية وطرد المرض النفساني أن يفحص عن أسباب تغير مزاجه إلى إحدى الوجهتين.
فمنها: أفعال تتلبس بها النفس وتدخل في جذر جوهرها، وقد بحثنا عن جملة صالحة من هذا الباب.
ومنها: أمور تولد في النفس هيئات دنية توجب مشابهة الشياطين والتعبد من الملائكة وتحقق أضداد الأخلاق الصالحة من حيث يشعرون ومن حيث لا يشعرون، فتلقت النفوس اللاحقة بالملأ الأعلى التاركة للالوات البهيمية من حظيرة القدس بشاعة تلك الأمور كما تلقي الطبيعة كراهية المر والبشع، وأوجب لطف الله ورحمته بالناس أن يكلفهم برؤوس تلك الأمور، والذي هو منضبط منها وأثرها جلي غير خاف فيهم.
ولما كان أقوي أسباب تغير البدن والأخلاق المأكول وجب أن يكون رؤوسها من هذا الباب، فمن أشد ذلك أثراً تناول الحيوان الذي مسخ قوم بصورته
ومنها: الحمار فإنه يضرب به المثل في الحمق والهوان وكان كثير من أهل الطبائع السليمة من العرب يحرمونه ويشبه الشياطين، وهو قوله ﷺ: "إذا سمعتم نهيق الحمار فتعوذوا بالله من الشيطان فإنه رأي شيطاناً".
وأيضاً قد اتفق الأطباء أن هذه الحيوانات كلها مخالفة لمزاج نوع الإنسان لا يسوغ تناولها طباً. (حجة الله البالغة: ۲/۳۱٦. ۳۱۸، ط: قديمي).
مزید کے لیے ملاحظہ ہو: (احکامِ اسلام عقل کی نظر میں، ص
۲۱۳
، ط: مکتبہ عمر فاروق) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.