چند قسم کی مچھلیوں کے شرعی احکام:
Question
مندرجہ ذیل مچھلیوں کا کھانا جائز ہے یا نہیں؟
(۱) کیکڑا: ۔ (crab) ۔
(۲) الدلفین ۔ (dolphin) ۔
(۳) الحوت ۔ (whale) [وہیل] ۔
(٤) الاخطبوط: ۔ (octopus) ۔
(۵) القرش: ۔ (shark) ۔
(٦) جھینگا: ۔ (prawns) ۔
(۷) کلماری: ۔ (calamari) ۔
Answer
سب سے پہلے جاننا چاہیے کہ ماہرین حیوانات نے مچھلی کی پہچان کے لیے چار علامتیں لکھی ہیں: (۱) ریڑھ کی ہڈی ۔ (۲) سانس لینے کے لیے گلپھڑے ۔ (۳) تیرنے کے پنکھے ۔ (٤) ماحول کے مطابق جسم کے درجہ حرارت کا کم و بیش ہونا ۔
یہ علامتیں جس میں ہو گی وہ مچھلی کہلائے گی، اور مذہبِ احناف میں سمندری جانوروں میں سے فقط مچھلی کے کھانے کی اجازت ہے ۔
خلاصہ یہ ہو گا کہ سمندری جانوروں میں فقط مچھلی حلال ہے اور مچھلی وہ ہے جس میں مذکور الصدر چار علامتیں پائی جائیں ۔
اب ترتیب وار حکم ملاحظہ کیجیے:
(۱) کیکڑا: ۔ (crab): احناف کے یہاں اس کا کھانا ناجائز ہے، یہ مچھلی کی تعریف میں داخل نہیں ہے، نیز شکل و صورت میں بھی مچھلی سے بالکل مختلف ہے ۔
(۲) الدلفین: ۔ (dolphin) ۔ اس کا کھانا جائز اور درست ہے اس میں مچھلی تمام علامتیں موجود ہیں ۔
(۳) الحوت ۔ (whale) حدیث شریف میں عنبر مچھلی کو حوت کہا گیا ہے اور پہلے مذکور ہوا کہ یہ حلال اور طیب ہے ۔
(٤) الاخطبوط: (octopus) یہ سمندری جانور ہے اس کو مچھلی کی اقسام میں شمار نہیں کیا گیا اور اس میں مچھلی کی علامات بھی موجود نہیں ہیں ۔ لہذا اس کا کھانا ناجائز ہے ۔
(۵) القرش ۔ (shark) یہ بھی مچھلی کے اقسام میں سے ہے اس میں تمام علامات بھی موجود ہیں اور پہلے مذکور ہوا کہ اس کا کھانا بھی جائز اور درست ہے ۔
(٦) جھینگا ۔ (prawns) یہ کیکڑے کے ساتھ مشابہ ہے ۔ مختلف فیہ ہے اور احتیاط نہ کھانے میں ہے ۔
(۷) کلماری: (calamari) یہ بھی اخطبوط کی طرح ایک سمندری جانور ہے مچھلی کی علامات اس میں موجود نہیں اس لیے اس کا کھانا بھی ناجائز ہے ۔
انکاٹا انسائیکلوپیڈیا میں مذکور ہے:
calamari is not permissible to eat because it is not a fish.
یعنی کلماری کا کھانا جائز نہیں ہے کیوں کہ یہ مچھلی نہیں ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.