جھینگا کھانے کا شرعی حکم:
Question
جھینگے کے بارے میں مختلف علماء سے مختلف باتیں سننے میں آئی ہیں، بعض حضرات فرماتے ہیں کہ یہ حرام ہے اور بعض فرماتے ہیں بالکل حلال طیب ہے اور اکثر حضرات کا کہنا ہے کہ جھینگا مکروہ ہے ۔ اب آپ سے مؤدبانہ گزارش یہ ہے کہ آپ کوئی درمیانی عافیت والا راستہ بتلا کر اجر عظیم کے مستحق ہوں؟
Answer
دورِ حاضر کے مفتیانِ کرام کے مابین اختلاف ہے، اور اصل اختلاف کی بنیاد اس کے سمک ہونے نہ ہونے پر ہے جن حضرات نے اقسامِ سمک میں سے شمار کیا انہوں نے حلت کا فتوی دیا اور جن حضرات نے اقسامِ سمک میں سے شمار نہیں کیا ان حضرات نے عدمِ حل کا فتوی دیا پھر سمک کی اقسام میں ہونے نہ ہونے کا مدار مختلف ہے: اہل لغت اقسامِ سمک میں شمار کرتے ہیں جب کہ جدید سائنس داں مچھلی کی تعریف سے خارج کرتے ہیں ۔ کیوں کہ ماہرین حیوانات نے مچھلی کی تعریف میں تین چیزوں کا ذکر کیا ہے:
(۱) ریڑھ کی ہڈی ۔ (۲) سانس لینے کے گلپھڑے ۔ (۳) تیرنے کے پنکھے ۔
اور جھینگے میں یہ چیزیں موجود نہیں ہیں ۔
ملاحظہ ہو تکملہ فتح الملہم میں ہے:
لكن خبراء علم الحيوان اليوم لا يعتبرونه سمكاً ويذكرونه كنوع مستقل، ويقولون أنه من أسرة السرطان دون السمك، وتعريف السمك عند علماء الحيوان، على ما ذكر في دائرة المعارف البريطانية (۹/۳۰۵، ط: ۱۹۵۰ م): هو حيوان ذو عمود فقري، يعيش في الماء ويسبح بعواماته، ويتنفس بغلصمته". (تكملة فتح الملهم: ۳/۵۱۳، مسألة الروبيان).
اسی تعریف کے پیش نظر مفتی رشید احمد لدھیانوی رحمہ اللہ صاحب نے عدمِ حل پر رسالہ تحریر فرمایا ہے ۔ ملاحظہ ہو: (احسن الفتاوی:
۳۹۱
۔
۳۹۹
) ۔
اور اہل لغات کے اقوال اور عرفِ عام کو مد نظر رکھتے ہوے مفتی عبد السلام چاٹگامی صاحب رحمہ اللہ نے جھینگے کی حلت اور جواز پر رسالہ تحریر فرمایا ہے ۔ ملاحظہ ہو: (جواہر الفتاوی:
۳
/٤
٦۲
۔
۵۰۳
، ط: اسلامی کتب خانہ، کراچی) ۔
ان دونوں حضرات کے علاوہ ساحلی علاقہ کے مفتی حضرات نے جواز تحریر فرمایا ہے، اور غیر ساحلی علاقہ والے مفتی حضرات نے عدمِ جواز یا کراہت کا قول تحریر فرمایا ہے ۔ ان تمام کی عبارات کو تطویل کے اندیشہ کی وجہ سے حذف کیا جاتا ہے ۔
خلاصہ یہ ہے کہ
"خير الأمور أوسطها"
و "ترکِ شبہات" و
"دع ما يريبك إلى ما لا يريبك"
اور مفتی حضرات کے اختلاف کے پیش نظر علماء طلبہ کو جھینگا کھانے سے احتراز کرنا چاہیے، اللہ تعالی نے کھانے کے لیے بے شمار چیزیں پیدا فرمائی ہیں وہ کھا لیا کریں ۔ اور عوام یا خواص میں سے جو کھاتے ہیں ان پر نکیر نہیں کرنی چاہیے اور ان کو حرام خور نہیں کہنا چاہیے ۔
عربی میں اس کو روبیان کے علاوہ سرطان البحر اور جراد البحر کہتے ہیں جس سے سمک ہونے کی نفی ہوتی ہے، المورد (
۹۰۳
) میں برغوث البحر، الاربیان، prawnکہا گیا ہے، نیز جھینگا شروع سے بحر میں موجود تھا اور اس کی شکل مچھلی کی نہیں ہے اگر متفقہ طور پر حلال ہوتا تو جیسے فقہاء نے جریث اور مار ماہی کی حلت کی تصریح فرمائی ہے تاکہ حرمت کا شبہ دفع ہو جائے اور کوئی اس کو حرام نہ سمجھے تو روبیان کی تصریح بھی کرتے تاکہ اس کی حرمت کا شبہ دفع ہو جائے، لیکن ایسا نہیں کیا، لہذا اس کے کھانے سے بچنے میں عافیت اور سلامتی ہے ۔
جھینگے سے متعلق حضراتِ اکابر رحمہ اللہ کا معمول:
حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمہ اللہ کو سفر میں کسی اسٹیشن پر کسی نے تلے ہوے جھینگے پیش کیے، حضرت نے دریافت فرمایا بھائی یہ کیا ہے؟ لانے والے نے کہا یہ جھینگا مچھلی ہے حضرت مدنی رحمہ اللہ نے فرمایا: بھائی مچھلی کے بھی پیر ہوتے ہیں اس کے تو پیر ہیں ۔
حضرت گنگوہی رحمہ اللہ نے بھی تحریر فرمایا ہے کہ جھینگا خشکی کے حشرات میں سے ہے اور دریائی غیر ماہی ہے، سوائے ماہی کے سب دریائی جانور حنفیہ کے نزدیک ناجائز ہیں ۔ (فتاوی رشیدیہ، ص
۵۳۷
) ۔
حضرت مفتی کفایت اللہ صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میرے خیال میں وہ مچھلی کے اقسام میں داخل نہیں ہے، تاہم علماء کے اختلاف کی وجہ سے اس میں سختی کرنے کو میں پسند نہیں کرتا ۔ (کفایت المفتی:
۹
/
۱۳۸
، دار الاشاعت) ۔
حضرت تھانوی رحمہ اللہ نے دمیری شافعی کی تحقیق پر اعتماد کرتے ہوے فرمایا: احقر کو اس وقت تو اس کے سمک ہونے میں بالکل اطمینان ہے،
ولعل الله يحدث بعد ذلك أمراً
۔ (امداد الفتاوی: ٤/
۱۰٤
) ۔
حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوری رحمہ اللہ کے بارے میں مولانا عاشق الہی صاحب نے تذکرۃ الخلیل میں تحریر فرمایا ہے کہ: جھینگا مچھلی کے متعلق بھی آپ کی رائے یہ تھی کہ مچھلی نام پڑ گیا حقیقت میں وہ مچھلی نہیں کہ اس کے گلپھڑے نہیں ہوتے لہذا آپ اس کو دریائی جانور سمجھتے اور حلت کا فتوی نہ دیتے تھے ۔ (تذکرۃ الخلیل، ص
۲۹۳
، کتب خانہ اشاعت العلوم) ۔
خلاصہ یہ ہے کہ یہ ایک مختلف فیہ مسئلہ ہے اور احتیاط اسی میں ہے کہ اس کے کھانے سے اجتناب کیا جائے لیکن جو حضرات اس کو کھاتے ہیں ان پر سختی اور تشدد نہ کیا جائے اور نہ ان پر نکیر کی جائے کیوں کہ شرعی اعتبار سے وہ حرام نہیں ہے اس کے کھانے کی بھی گنجائش ہے ۔
ملاحظہ ہو مفتی تقی صاحب فرماتے ہیں:
فمن أخذ بحقيقة الإربيان حسب علم الحيوان قال بمنع أكله عند الحنفية، ومن أخذ بعرف أهل العرب قال بجوازه، وربما يرجح هذا القول بأن المعهود من الشريعة في أمثال هذه المسائل الرجوع إلى العرف المتفاهم بين الناس، دون التدقيق في الأبحاث النظرية، فلا ينبغي التشديد في مسألة الاربيان عند الإفتاء، وإن اختلاف الفقهاء يورث التخفيف كما تقرر في محله، غير أن الاجتناب عن أكله أحوط وأولي وأحري، والله سبحانه وتعالى أعلم. (تكملة فتح الملهم: ۳/۵۱٤، مسألة الروبيان، وفقهي مقالات، جلد: ۳).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.