وجوبِ قربانی کا نصاب:
Question
قربانی کس شخص پر واجب ہے؟ یعنی وجوبِ قربانی کا نصاب کیا ہے؟
Answer
وجوبِ قربانی کا نصاب وہی ہے جو صدقہ فطر کے لیے ہے، یعنی جس کے پاس رہائش کا مکان، کھانے پینے کا سامان، استعمال کے کپڑے، دیگر ضروری استعمال کی اشیاء، سواری وغیرہ کے علاوہ ساڑھے سات تولہ (۸۷ گرام ٤۸ ملی گرام) سونا یا ساڑھے باون تولہ (٦۱۲ گرام ۳۵ ملی گرام) چاندی یا اس کے برابر نقد رقم اور دوسرا سامان، مکان، گاڑی موجود ہوں تو اس پر زکوۃ واجب ہے۔ پھر نصابِ قربانی کے لیے ایک سال کا گزرنا بھی ضروری نہیں، نیز تجارت کا مال ہونا بھی ضروری نہیں ہے، بلکہ حوائج اصلیہ سے جو بھی زائد مال ہو اس کا اعتبار ہوگا۔
بنا بریں رہائش کے ایک مکان سے زائد مکان، یا مکان کے لیے زائد پلاٹ، یا ضروری سواری کے علاوہ زائد سواریاں، خواہ یہ سب تجارت کے لیے ہوں یا نہ ہوں، سب نصاب میں شامل ہوں گے، اور نصاب مکمل ہونے پر قربانی واجب ہو گی ۔
واضح ہو کہ ٹیلیویژن (
T.V
)، ڈی وی ڈی (
D.V.D
)، جیسی خرافات بیش بہا ہوتی ہیں، تو یہ بھی حوائج اصلیہ میں شامل نہیں ہیں، ان کی قیمت بھی نصاب قربانی میں شمار کی جائے گی، نیز بیش بہا شوقیہ زائد از ضرورت موبائل کی قیمت بھی نصاب میں شمار ہو گی ۔
ملاحظہ ہو حدیث شریف میں ہے:
قال رسول الله ﷺ: "من كان له سعة ولم يضح فلا يقربن مصلانا". (رواه احمد، رقم: ۸۲۵٦، وابن ماجه، رقم ۳۱۲۳، وابن أبي شيبة، والحاكم وقال: صحيح الإسناد ولم يخرجاه، ٤/۲۳۱، ۲۳۲، قلت: إسناده حسن).
فتاوی شامی میں ہے:
(واليسار الذي يتعلق به وجوب صدقة الفطر) قوله واليسار الخ، بأن ملك مائتي درهم أو عرضاً يساويها غير مسكنه وثياب اللبس أو متاع يحتاجه إلى أن يذبح الأضحية
وصاحب الثياب الأربعة لو ساوي الرابع نصاباً غني وثلاثة فلا، لأن أحدها للبذلة والآخر للمهنة والثالث للجمع والوفد والأعياد
الخ. (الدر المختار مع رد المحتار: ٦/۳۱۲، ط: سعيد).
فتاوی ہندیہ میں ہے:
وأما شرائط الوجوب منها اليسار وهو ما يتعلق به وجوب صدقة الفطر دون ما يتعلق به وجوب الزكاة. (الفتاوى الهندية: ۵/۲۹۲، كتاب الأضحية).
بدائع الصنائع میں ہے:
وأما شرائط الوجوب
منها الغني لما روي عن رسول الله ﷺ أنه قال: من وجد سعة فليضح شرط عليه الصلاة والسلام السعة وهي الغني
وهو أن يكون في ملكه مائتا درهم أو عشرون ديناراً أو شيء تبلغ قيمته ذلك سوى مسكنه وما يتأثث به وكسوته وخادمه وفرسه وسلاحه وما لا يستغني عنه وهو نصاب صدقة الفطر وقد ذكرناه وما يتصل به من المسائل في صدقة الفطر. (بدائع الصنائع: ۵/٦٤، ط: سعيد).
جدید معاملات کے شرعی احکام میں ہے:
سونے، چاندی، مالِ تجارت اور گھر میں روزمرہ استعمال کی چیزوں سے زائد سامان کی قیمت لگا کر اس میں نقدی جمع کی جائے، ان پانچوں کا مجموعہ یا ان میں سے بعض ۴۷۹.۸۷ گرام سونے یا ۳۵.٦۱۲ گرام چاندی کے برابر ہوئے تو اس کے ذمہ قربانی واجب ہے تین جوڑے کپڑوں سے زائد لباس اور ریڈیو اور ٹی وی جیسی خرافات انسانی حاجات میں داخل نہیں اس لیے ان کی قیمت بھی حساب میں لگائی جائے گی ۔ (جدید معاملات کے شرعی احکام:
۳
/
۱۱۰
، دار الاشاعت) ۔
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: (فتاوی محمودیہ:
۱۷
/
۳۱۰
، ط: جامعہ فاروقیہ، و فتاوی بینات: ٤/
۵٦۷
، مکتبہ بینات) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.