پیدائشی چھوٹے کان والے جانور کی قربانی کا حکم:

1 min readFatwa Vol 6 #131Urdu
Vol. 6كتاب الصيد والذبائحباب (۳): أحكام الأضحية

Question

اگر کسی جانور کے پیدائشی طور پر کان بہت چھوٹے ہوں تو اس کی قربانی جائز ہے یا نہیں؟

Answer

جس جانور کے کان پیدائشی طور پر چھوٹے ہوں اس کی قربانی جائز اور درست ہے ۔
ملاحظہ ہو الدر المختار میں ہے:

فلو لها أذن صغيرة خلقة أجزأت. (الدر المختار: ٦/۳۲٤، سعيد).

عالمگیری میں ہے:

وتجزئ السكاء وهي صغيرة الأذن. (الفتاوى الهندية: ۵/۲۹۷، وبدائع الصنائع: ۵/۷۵، سعيد).
وفي المبسوط: فأما صغيرة الأذن تجزئ لأن الأذن منها صحيحة وإن كانت صغيرة. (المبسوط للامام السرخسي رحمه الله: ۱۲/۱۷، ط: بيروت).
وفي المحيط البرهاني: وفي "زيادات نوادر هشام" قال أبو حنيفة رحمه الله: إذا كان لها أذنان صغيران يجوز. (المحيط البرهاني: ٦/٤۷۸، مكتبه رشيديه).

فتاوی رحیمیہ میں ہے:
جس جانور کے کان پیدائشی چھوٹے ہوں اس کی قربانی جائز ہے ۔ (فتاوی رحیمیہ: ۵/ ٤۱۱) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.