دُم بریدہ جانور کی قربانی کا حکم
Question
یہاں جنوبی افریقہ میں اکثر دنبوں کی دم پیدائش کے بعد کاٹ دیتے ہیں، اور ماہرین کہتے ہیں کہ اس کے باقی رکھنے میں ایک خاص بیماری یا پیلاپن اور کمزوری وغیرہ کے ہونے کا قوی اندیشہ ہوتا ہے ۔ اب دریافت طلب امور حسبِ ذیل درج ہیں:
(۱) اگر دُم بریدہ دنبہ کی عمر پوری ہو تو اس کی قربانی جائز ہے یا نہیں؟
(۲) فقہاء نے ناجائز لکھا ہے تو یہ مسئلہ نص پر مبنی ہے یا اس کو عیب شمار کر کے ناجائز فرمایا ہے جب کہ یہاں جنوبی افریقہ میں عیب نہیں؟
(۳) دنبہ بڑا ہونے کے بعد دُم بریدہ نظر نہیں آتا بلکہ عام مشاہدہ میں چھوٹی دُم والا معلوم ہوتا ہے؟
(٤) اگر قدرتی طور پر خلقۃً دم نہ ہو تو اس کی قربانی جائز ہے یا نہیں؟
(۵) دم بریدہ جانور کی قربانی کا عدمِ جواز متفق علیہ ہے یا صرف احناف کا مذہب ہے؟
(٦) دُم کتنی کٹی ہو تو معاف ہے اس کا معیار کیا ہے؟
بينوا بالتفصيل توجروا بأجر جزيل
۔
Answer
(۱) اس مسئلہ میں عصر حاضر کے مفتیانِ کرام کی آراء مختلف ہیں، اکثر حضرات فقہاء کی عبارات کے پیش نظر ناجائز فرماتے ہیں ۔ اور بعض حضرات فرماتے ہیں اس عمل کو یہاں کے مقامی حالات اور آب و ہوا کے اعتبار سے عیب شمار نہیں کیا جاتا بلکہ زیادتی صحت کا باعث سمجھا جاتا ہے ۔ لہذا عرفِ عام اور مستند اطباء کی رائے کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کو عیب شمار نہیں کرنا چاہیے ۔ اور دُم بریدہ جانور کی قربانی کی گنجائش ہونی چاہیے ۔ بلکہ دُم بریدہ جانور کی قربانی کا ذکر حدیث میں موجود ہے اور کتنی کٹی ہو اس کی تحدید بھی مذکور نہیں ہے ۔ ہاں احتیاط یہ ہے کہ اگر دم والا جانور بآسانی میسر ہو تو وہ بہتر ہے ۔
ناجائز کہنے والوں کے دلائل ملاحظہ ہو:
قال في الهداية: ولا تجزئ مقطوعة الأذن والذنب أما الأذن فلقوله عليه السلام: استشرفوا العين والأذن أي اطلبوا سلامتهما، وأما الذنب فلأنه عضو كامل مقصود فصار كالأذن. (الهداية: ٤/ ٤۳۱).
بدائع الصنائع میں ہے:
وأما الذي يرجع إلى محل التضحية فنوعان أحدهما سلامة المحل عن العيوب الفاحشة فلا تجوز
مقطوعة الأذن والألية بالكلية. (بدائع الصنائع: ۵/ ۷۵، سعيد).
(وكذا في الفقه الحنفي في ثوبه الجديد: ۵/ ۲۱۲، وفتاوى رحيميه: ۵/، وفتاوى بينات: ٤/، وجواهر الفقه: ٦/ ۵۷۱، وعمدة الفقه: ٤/ ۲٤۳).
جواز والوں کے دلائل ملاحظہ فرمائیں:
حضرت مفتی رشید احمد لدھیانوی رحمہ اللہ احسن الفتاوی میں فرماتے ہیں:
سوال: دُنبے کی چکتی کے نیچے چھوٹی سی دُم لگی رہتی ہے، یہ دُم اگر ٹوٹ جائے تو اس کی قربانی جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔
الجواب باسم ملہم الصواب:
دُنبے کی دُم کا اعتبار نہیں، لہذا پوری دُم کٹی ہوئی ہو تو بھی قربانی جائز ہے ۔
قال العلامة الحصكفي رحمه الله تعالى: ولا التي لا إلية لها خلقة، مجتبى. وقال العلامة ابن عابدين رحمه الله تعالى:
قوله: ولا التي لا إلية لها خلقة، الشاة إذا لم يكن لها أذن ولا ذنب خلقة. قال محمد: لا يكون هذا ولوكان لا يجوز، وذكر في الأصل عن أبي حنيفة رحمه الله أنه يجوز، خانية، ثم قال: وإن كان لها إلية صغيرة مثل الذنب خلقة جاز أما على قول أبي حنيفة رحمه الله فظاهر لأن عنده لو لم يكن لها أذن أصلاً ولا إلية جاز، وأما على قول محمد رحمه الله صغيرة الأذنين جائز ة، وإن لم يكن لها إلية ولا أذن خلقة لا يجوز. (فتاوى الشامي: ٦/ ۳۲۵، سعيد). (احسن الفتاوى: ۷/ ۵۱۷).
(وكذا في فتاوى قاضي خان علي هامش الفتاوى الهندية: ۳/ ۳۵۳).
درجِ ذیل وجوہات کی بنا پر مفتی رشید احمد صاحب کا قول زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے:
ة
نصوص میں جن عیوب کا تذکرہ ملتا ہے وہاں دم بریدہ ہونے کا کوئی تذکرہ موجود نہیں ہے ۔ لہذا دم بریدہ ہونے کا عیب قیاسی ہے منصوص نہیں ہے ۔
ملاحظہ ہو سنن ابی داود میں روایت موجود ہے:
عن عبيد بن فيروز قال سألت البراء بن عازب: مالا يجوز في الأضاحي؟ فقال: قام فينا رسول الله ﷺ
فقال: "أربع لا تجوز في الأضاحي: العوراء بين عورها، والمريضة بين مرضها، والعرجاء بين ظلعها، والكبير التي لا تنقي". قال: قلت: فإني أكره أن يكون في السن نقص، فقال: "ما كرهت فدعه ولا تحرمه على أحد. (أبو داود: ۲/ ۳۸۷).
وفي رواية ابن ماجة قال: فإني أكره أن يكون نقص في الأذن
(رواه ابن ماجه، ص ۲۲۷).
عن على رضي الله عنه قال: أمرنا رسول الله ﷺ أن نستشرف العين والأذن ولا نضحي بعوراء ولا مقابلة ولا مدابرة ولا خرقاء ولا شرقاء
. (رواه أبو داود: ۲/ ۳۸۸، والترمذي: ۱/ ۲۷۵، وابن ماجه، ص ۲۲۷).
وعن يزيد ذو مصر قال: أتيت عتبة بن عبد السلمي فقلت: يا أبا الوليد إني خرجت التمس الضحايا
إنما نهي رسول الله ﷺ عن المصفرة والمستأصلة والبخقاء والمشيعة والكسراء.
فالمصفرة: التي يستاصل أذنها حتى يبدو سماخها، والمستأصلة: قرنها من أصله، والبخقاء: التي تبخق (تذهب) عينها، والمشيعة: التي لا تتبع الغنم عجفاً وضعفاً، والكسراء: الكسيرة (مكسورة الرجل). (أبو داود شريف: ۲/ ۳۸۷).
وعن على رضي الله عنه أن النبي ﷺ نهي أن يضحي بعضباء الأذن والقرن. (أبو داود: ۲/ ۳۸۸، وابن ماجه، ص ۲۲۷).
أخرج أبو داود عن قتادة رحمه الله قال: قلت لسعيد بن المسيب: ما الأعضب؟ قال النصف فما فوقه. (أبو داود، رقم: ۲۸۰٦).
مذکورہ بالا نصوص میں جو عیوب بیان ہوے ہیں ان میں کہیں دم بریدہ ہونا مذکور نہیں ہے، اس کے بر خلاف ابن ماجہ شریف اور دیگر کتبِ حدیث کی روایت سے جواز معلوم ہوتا ہے ۔ ملاحظہ فرمائیں:
عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه قال: ابتعنا كبشاً نضحي به فأصاب الذئب من الألية أو أذنه وسألنا النبي ﷺ فأمرنا أن نضحي به. (سنن ابن ماجه، ص ۲۲۷).
قال ابن الملقن في "البدر المنير" (۹/ ۳۲۱، كتاب الضحايا، الحديث السادس بعد الثلاثين): ورواه أبو حاتم بن حبان في "ثقاته" بالسند المذكور ولفظه: "اشتريت كبشاً أضحي به فقطع الذئب إليته ــ أو من الألية
الخ. ورواه ابن حزم في "محلاه" بالسند المذكور ولفظه: فعدا الذئب على ذنبه فقطعه
الخ؛
قال البيهقي (السنن الكبري: ۹/ ۲۸۹، بيروت، ومعرفة السنن والآثار: ۱٤/ ۵۰): وروي الحجاج ابن أرطاة، عن شيخ من أهل المدينة، عن أبي سعيد الخدري قال: قال رسول الله ﷺ: لا بأس بالأضحية المقطوعة الذنب". قال: وهذا مختصر من الحديث الأول؛ فقد رواه حماد بن سلمة، عن حجاج، عن عطية، عن أبي سعيد رضي الله عنه "أن رجلاً سأل النبي ﷺ عن شاة قطع [الذئب] ذنبها يضحي بها؟ فقال: ضح بها.
(وكذا في التلخيص الحبير: ٤/ ۳۵۵/ ۱۹۷٦، بيروت).
روایاتِ بالا میں یہ تفصیل نہیں ہے کہ دم ایک تہائی سے کم کٹی تھی، اس لیے یہ قید لگانا کہ دم تھوڑی سی کٹی تھی بظاہر بے دلیل ہے ۔
ملاحظہ ہو شرح وقایہ کے حاشیہ میں مولانا فتح محمد صاحب فرماتے ہیں:
وما روى ابن ماجه من أبي سعيد الخدري رضي الله عنه
محمول على أن مطلق الذهاب من الألية أو الأذن ليس بشيء، ولا دلالة للحديث على ذهاب الأكثر فلا تقوم حجة. (تكملة عمدة الرعاية: ٤/ ٤۱، سعيد).
مطلب یہ ہے کہ حدیثِ بالا میں مطلق دُم بریدہ ہونا مراد ہے، اس حدیث سے دُم کا ثلث سے کم حصہ کٹا ہوا مراد لینا صحیح نہیں ہے ۔
اگر چہ مذکورہ بالا روایات پر کلام ہے جو اہل علم پر مخفی نہیں ہے ۔
ة
بعض مشائخ نے عیوب کی معرفت کے لیے ایک اصول بیان کیا ہے کہ ہر وہ چیز جو کسی خاص قسم کی منفعت یا ظاہری جمال کو بالکل ختم کر دے تو وہ عیب ہے، اس کی وجہ سے قربانی جائز نہیں ۔
ملاحظہ ہو علامہ زیلعی رحمہ اللہ اس اصول پر روشنی ڈالتے ہوئے فرماتے ہیں:
ومن المشايخ من يذكر في هذا الفصل أصلاً ويقول: كل عيب يزيل المنفعة على الكمال أو الجمال على الكمال يمنع وما لا يكون بهذه الصفة لا يمنع. (تبيين الحقائق: ٦/ ٦، ملتان، وكذا في الفتاوى الهندية: ۵/ ۲۹۹، والمحيط البرهاني: ٦/ ٤۷۹، مكتبه رشيديه).
قاموس الفقہ میں ہے:
عیوب کے سلسلہ میں اصول یہ ہے کہ اگر اس سے کوئی خاص قسم کی منفعت یا ظاہری جمال بالکل ختم ہو جائے تو اس جانور کی قربانی درست نہ ہو گی اور اگر ایسا نہ ہو تو قربانی جائز ہو گی ۔ (قاموس الفقہ: ۲/ ۱۵۷) ۔
لیکن مسئلہ مبحوث عنہا میں پیدائش کے بعد فوراً دم کاٹ دیتے ہیں جس کی وجہ سے بڑے ہونے کے بعد دُم بریدہ معلوم نہیں ہوتے ۔ بنا بریں اس کو عیب شمار کرنا مشکل ہے ۔
ة
بعض فقہاء نے یہ فرمایا کہ دم عضو کامل ہے اور دم بریدہ ہونے کی صورت میں کامل عضو ختم ہو جاتا ہے، اس لیے یہ عیب ہے اور قربانی جائز نہیں ہو گی؟
اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ دم اگر چہ عضو کامل ہے لیکن اس کے کاٹنے کی وجہ سے عیب پیدا نہیں ہوتا، بلکہ ماہرین کے نزدیک اس کی صحت دو بالا ہو جاتی ہے، کیوں کہ دنبہ کی دم تقریباً ۱۸ انچ لمبی ہوتی ہے، جب غلاظت ڈالتا ہے تو دُم ملوث ہوتی ہے اور مکھیوں کے بیٹھنے کی وجہ سے رفتہ رفتہ جراثیم پیدا ہو جاتے ہیں جن کی وجہ سے دنبہ مسلسل تکالیف کا شکار ہو کر دبلا پتلا ہونا شروع ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ صحت خراب ہو جاتی ہے ۔ اور قربانی میں افضل و بہتر یہ ہے کہ صحت مند موٹا تازہ جانور ذبح کیا جائے، خود رسالت مآب ﷺ نے خوبصورت موٹے تازے دنبہ کی قربانی فرمائی تھی ۔ ملاحظہ ہو سنن ابن ماجہ میں ہے:
عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلي الله عليه وسلم كان إذا أراد أن يضحي اشترى كبشين عظيمين أقرنين أملحين موجوئين فذبح أحدهما عن أمته
الخ. (رواه ابن ماجه، رقم: ۳۱۲۲، واحمد، رقم: ۲۵۸۸۵، والحاكم، رقم: ۷۵٤۷).
بدائع الصنائع
میں ہے:
وأما الذي يرجع إلى الأضحية فالمستحب أن يكون أسمنها أحسنها وأعظمها لأنها مطية الآخرة. (بدائع الصنائع: ۵/ ۸۰، سعيد).
مزید براں سرورِ دو عالم ﷺ نے خصی جانور کی قربانی فرمائی ہے جیسا کہ روایتِ بالا میں مذکور ہوا، اگر چہ خصی جانور کا ایک عضو معطل ہو گیا لیکن اس کی وجہ سے گوشت میں لذت اور اضافہ ہوا اس وجہ سے عیب شمار نہیں کیا ۔ اسی طرح دم بریدہ جانور کا ایک عضو فوت ہوا لیکن اس کی وجہ سے صحت طاقت اور گوشت میں اضافہ ہوا بنا بریں عیب شمار نہیں کرنا چاہیے ۔
قال في البدائع: روي عن أبي حنيفة رحمه الله أنه سئل عن التضحية بالخصي فقال: ما زاد في لحمه أنفع مما ذهب من خصيته. (بدائع الصنائع: ۵/ ۸۰، سعيد).
وقال في "الفقه الحنفي في ثوبه الجديد" (۵/ ۲۱۰): وأخرج أبو داود
عن جابر رضي الله عنه ذبح النبي ﷺ كبشين أقرنين أملحين موجوئين
وفيه جواز الخصي في الأضحية، وقد كرهه بعض أهل العلم لنقص العضو لكن ليس هذا عيباً، لأن الخصاء يفيد اللحم طيباً، وينفي عنه الزهومة وسوء الرائحة. (وكذا في تكملة فتح الملهم: ۳/ ۵٦۲).
امداد الفتاوی میں حضرت حکیم الامت ایک سوال کے جواب میں رقم طراز ہے:
سوال: خصی تین طرح کے ہوتے ہیں: ایک کے خصیے مل دیتے ہیں، اور دوسرے کے چڑھا دیتے ہیں، اور تیسرے کے نکال دیتے ہیں، ان تینوں میں کون درست یا ہر سہ درست ہیں، اور جب کہ خصیہ نکل گیا، تو تہائی سے زیادہ عضو بلکہ ثابت عضو جاتا رہا ۔
الجواب: تینوں درست ہیں، اور یہ عضو چونکہ مقصود نہیں، بلکہ اخصاء سے گوشت اور بھی عمدہ ہو جاتا ہے، لہذا اس کا ذہاب مضر نہیں، جیسا کہ عالمگیری میں مجبوب کی قربانی کا جواز مصرح ہے ۔ (امداد الفتاوی: ۳/ ۵٤۹) ۔
دوسری جگہ فرماتے ہیں:
اگر فوتِ عضو کا شبہہ ہو تو فوت وہ مانع ہے جو منقص قیمت ہو، اور اس سے قیمت اور بڑھ جاتی ہے، لہذا مضر نہیں ۔ (امداد الفتاوی: ۳/ ۵۵۰) ۔
نیز دُنبہ بڑا ہونے کے بعد دُم بریدہ معلوم نہیں ہوتا، بلکہ خلقۃً چھوٹی دم والا محسوس ہوتا ہے، اور فقہاء کی تصریح کے مطابق جس جانور کی دم خلقۃً چھوٹی ہو اس کی قربانی جائز اور درست ہے ۔
ملاحظہ ہو فتاوی قاضی خان میں ہے:
وإن كان لها إلية صغيرة خلقة مثل الذنب خلقة جاز. (فتاوى قاضيخان على هامش الهندية: ۳/ ۳۵۳).
فتاوی بزازیہ میں ہے:
والتي لها إلية صغيرة تشبه الذنب يجوز. (الفتاوى البزازية على هامش الفتاوى الهندية: ۲/ ۹۳، والفتاوى الهندية: ۵/ ۲۹۷، والمحيط البرهاني: ٦/ ٤۷۸، مكتبه رشيديه، ولسان الحكام، ص ۳۸۸، نوع في العيوب).
نیز جس جانور کی دُم قدرتی طور پر نہ ہو اس کی قربانی بھی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک جائز ہے، البتہ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک ناجائز ہے اور اکثر حضرات نے امام محمد رحمہ اللہ کے قول کو اختیار کیا ہے ۔
ملاحظہ ہو فتاوی شامی میں ہے:
قوله: ولا التي لا إلية لها خلقة، الشاة إذا لم يكن لها أذن ولا ذنب خلقة. قال محمد: لا يكون هذا ولوكان لا يجوز، وذكر في الأصل عن أبي حنفية رحمه الله أنه يجوز، خانية، ثم قال: وإن كان لها إلية صغيرة مثل الذنب خلقة جاز أما على قول أبي حنيفة رحمه الله فظاهر لأن عنده لو لم يكن لها أذن أصلاً ولا إلية جاز، وأما على قول محمد رحمه الله صغيرة الأذنين جائز ة، وإن لم يكن لها إلية ولا أذن خلقة لا يجوز. (فتاوى الشامي: ٦/ ۳۲۵، سعيد).
(وكذا في فتاوى قاضي خان علي هامش الفتاوى الهندية: ۳/ ۳۵۳).
وفي لسان الحكام: وإن لم يكن لها إلية، خُلِقَتْ كذلك، قال محمد: لا تجوز. (لسان الحكام، ص ۳۸۸، دار الفكر).
مزید ملاحظہ ہو: (فتاوی بینات: ٤/ ۵۷۱، و جواہر الفقہ: ٦/ ۳۲٦، و فتاوی رحیمیہ: ۵/ ٤۱۰، عمدۃ الفقہ: ٤/ ٦٤۳) ۔
البتہ حضرت مفتی رشید احمد لدھیانوی رحمہ اللہ نے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے قول کو اختیار فرمایا ہے ۔ جیسا کہ بحوالہ احسن الفتاوی مذکور ہوا ۔
نیز دُم کے مسئلہ کو فقہاء نے کان اور سینگ پر قیاس کیا ہے، لہذا یہ منصوص نہیں ہے بلکہ قیاسی ہے ۔
ملاحظہ ہو صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں:
ولا تجزئ مقطوعة الأذن والذنب أما الأذن فلقوله عليه السلام: استشرفوا العين والأذن أي اطلبوا سلامتهما، وأما الذنب فلأنه عضو كامل مقصود فصار كالأذن. (الهداية: ٤/ ٤۳۱).
عمومِ بلوی و عرفِ عام کی وجہ سے قیاس کو ترک کیا جا سکتا ہے، جب کہ مذکورہ نصوص بھی اسی کی مؤید ہیں، اگر چہ احادیث ضعیف ہیں ۔
ملاحظہ ہو علامہ شامی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ثم اعلم أن العرف قسمان عام وخاص فالعام يثبت به الحكم العام ويصلح مخصصاً للقياس والأثر بخلاف الخاص
قال في الذخيرة في الفصل الثامن من الإجارات في مسألة ما لو دفع إلى حائك غزلاً لينسجه بالثلث ومشايخ بلخ كنصير بن يحيي ومحمد بن سلمة وغيرهما كانوا يجيزون هذه الإجارة في الثياب لتعامل أهل بلدهم في الثياب والتعامل حجة يترك به القياس ويخص به الأثر وتجويز هذه الإجارة في الثياب للتعامل بمعني تخصيص النص الذي ورد في قفيز الطحان لأن النص ورد في قفيز الطحان لا في الحائك إلا أن الحائك نظيره فيكون وارداً فيه دلالة فمتى تركنا العمل بدلالة هذا النص في الحائك وعملنا بالنص في قفيز الطحان كان تخصيصاً لا تركاً أصلاً وتخصيص النص بالتعامل جائز ألا تري أنا جوزنا الاستصناع للتعامل والاستصناع بيع ما ليس عنده وإنه منهي عنه وتجويز الاستصناع بالتعامل تخصيص منا للنص الذي ورد في النهي عن بيع ما ليس عند الإنسان لا ترك للنص أصلاً لأنا عملنا بالنص في غير الاستصناع. (شرح عقود رسم المفتي، ص ٤۱. وكذا في رسالة "نشر العرف في بناء بعض الأحكام على العرف" المندرجة في رسائل ابن عابدين رحمه الله، ۲/ ۱۱٤، سهيل).
لہذا نص اذن اور قرن کے بارے میں موجود ہے، لیکن دُم کے بارے میں نص موجود نہیں ہے، بلکہ فقہاء نے دُم کو ان دونوں پر قیاس کیا ہے، بایں طور کہ جس طرح مقطوع الاذن جانور عیب دار معلوم ہوتا ہے اسی طرح دُم بریدہ بھی عیب دار معلوم ہوتا ہے، اور عضو کامل ہے، لیکن مقطوع الاذن کو عیب دار کہنا مسلم ہے، مگر دُم بریدہ جانور بڑا ہو جائے تو عیب دار معلوم نہیں ہوتا اور جمال میں کوئی خاص فرق نہیں آتا، بلکہ عرفِ عام اور اطباء کی تحقیق سے دُم بریدہ صحت مند اور پر گوشت ہوتا ہے، اس لیے یہاں قیاس متروک ہو گا اور عرف و عمومِ بلوی پر عمل ہوگا، جب کہ مذکورہ بالا ضعیف احادیث بھی اسی کی مؤید ہیں ۔
ة
مزید براں مذہبِ حنابلہ سے بھی تائید ہوتی ہے ۔ ملاحظہ ہو: علامہ ابن قدامہ حنبلی رحمہ اللہ (۵٤۱ ۔ ٦۲۰ ھ) المغنی میں فرماتے ہیں:
وتجزئ البتراء وهي المقطوعة الذنب كذلك. (المغني لابن قدامة الحنبلي: ۳/۵۸۵، بيروت).
"العدة شرح العمدة"
میں علامہ بہاء الدین المقدسی الحنبلی (۵۵٦ ۔ ٦۲٤ ھ) فرماتے ہیں کہ دُم عضو مقصود نہیں ہے، لہذا دُم بریدہ جانور کی قربانی جائز اور درست ہے ۔
والأبتر المقطوع الذنب لان ذلك ليس مقصود. (العدة شرح العمدة، ص ۲۰۸، بيروت).
اس سے معلوم ہوا کہ یہ مسئلہ اجماعی نہیں ہے بلکہ حنابلہ کے ہاں دُم بریدہ جانور کی قربانی جائز ہے ۔
مقطوع الاذن اور مقطوع الذنب کا معیار:
مذہبِ احناف میں کان اور دُم ایک تہائی سے زیادہ کٹے ہوے ہوں تو ایسے جانور کی قربانی جائز نہیں ہے ۔ یہ ظاہر الروایہ اور مفتی بہ قول ہے ۔ تاہم احناف کے ہاں اس بارے میں چار اقوال ہیں، جن کو اکثر فقہاء نے ذکر فرمایا ہے، اور دو اقوال کو مفتی بہ قرار دیا ہے ۔
(۱) ثلث یا ثلث سے کم کٹی ہو تو جائز ہے، لیکن ثلث سے زیادہ ہو تو جائز نہیں ہے ۔ یہ ظاہر الروایہ اور مفتی بہ ہے اور اکثر مشائخ نے اسی کو اختیار فرمایا ہے اور یہ قول مبنی بر احتیاط بھی ہے ۔
والاحتياط أليق بالعبادات
۔
(۲) نصف یا نصف سے کم کٹی ہو تو جائز ہے لیکن نصف سے زیادہ ہو تو جائز نہیں ہے ۔ یہ صاحبین رحمہ اللہ کا قول ہے اور بعض نے اس قول کو اختیار فرمایا ہے، یہ قول اوسع و ایسر للناس ہے ۔ بوقتِ ضرورت عمل کرنے کی گنجائش ہے ۔ ملاحظہ ہو فتاوی شامی میں ہے:
(قوله ومقطوع أكثر الأذن) في البدائع: لو ذهب بعض الأذن أو الألية
وذكر في الجامع الصغير إن كان كثيراً يمنع، وإن كان يسيراً لا يمنع. واختلف أصحابنا في الفاصل بين القليل والكثير؟ فعن أبي حنيفة رحمه الله أربع روايات: روي محمد عنه في الأصل والجامع الصغير أن المانع ذهب أكثر من الثلث وعنه أنه الثلث، وعنه أنه الربع، وعنه أن يكون الذاهب أكثر من الباقي أو مثله، بالمعنى والأولي هي ظاهر الرواية، وصححها في الخانية حيث قال: والصحيح أنه الثلث، وما دونه قليل، وما زاد عليه كثير وعليه الفتوى، ومشي عليها في مختصر الوقاية والإصلاح، والرابعة هي قولهما
وهو اختيار الفقيه أبي الليث
الخ. (رد المحتار: ٦/۳۲۳، ۳۲٤، سعيد). (وكذا في فتاوى قاضيخان: ۳/۳۵٤، وكذا في التصحيح والترجيح للعلامة قاسم بن قطلوبغا، وحاشية الدرر، والهداية).
حاشیۃ الطحطاوی علی الدر میں ہے:
ومقطوع أكثر الأذن هو اختيار أبي الليث وعليه الفتوى صح عن المجتبى، وفي الشرنبلالية عن قاضي خان: الصحيح أن الثلث وما دونه قليل وما زاد عليه كثير وعليه الفتوى، فقد اختلف الإفتاء. (حاشية الطحطاوي على الدر المختار: ٤/۱٦۵، كوئته).
وينظر: (بدائع الصنائع: ۵/۷۵، سعيد، والمحيط البرهاني: ٦/٤۷۹، مكتبه رشيديه).
احسن الفتاوی میں نصف والے قول کو ترجیح دی ہے ۔ ملاحظہ ہو: (احسن الفتاوی: ۷/۵۱۵) ۔
حضرت مولانا سید زوار حسین صاحب نے عمدۃ الفقہ میں عمدہ تطبیق فرمائی ہے:
پہلے قول (ثلث) میں جو کہ ظاہر الروایہ ہے زیادہ احتیاط ہے اور ہمارے علماء نے فتوی کے لیے اسی کو اختیار کیا ہے اور چوتھے قول (نصف) میں توسع ہے اور ضرورت کے وقت اس پر عمل کرنے کی گنجائش ہے کیوں کہ یہ قول بھی مفتی بہ ہے ۔ (عمدۃ الفقہ: ٤/٦٤۳) ۔
مذکورہ بالا تفصیل میں تمام سوالات کے جوابات آ گئے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.