کھانا مشترک ہو تو تقسیمِ لحم کا حکم:

2 min readFatwa Vol 6 #141Urdu
Vol. 6كتاب الصيد والذبائحباب (۳): أحكام الأضحية

Question

اگر قربانی کے گوشت میں پانچ بھائی شریک ہیں اور سب کا کھانا مشترک ہے، تو گوشت کی تقسیم میں برابری ضروری ہو گی یا نہیں؟

Answer

بصورتِ مسئولہ جب شرکاء کا کھانا پینا مشترک ہو تو تقسیمِ لحم ضروری نہیں ہے۔
ملاحظہ ہو فتاوی شامی میں ہے:

(قوله ويقسم اللحم) انظر هل هذه القسمة متعينة أولا، حتى لو اشترى لنفسه ولزوجته وأولاده الكبار بدنة ولم يقسموها تجزيهم أولا، والظاهر أنها لا تشترط لأن المقصود منها الإراقة وقد حصلت. (فتاوى الشامي: ٦/۳۱۷، سعيد).
(وكذا في حاشية الطحطاوي على الدر المختار: ٤/۱٦۲، كوئته).

احسن الفتاوی میں ہے:
سوال: والدین اور بہن بھائیوں نے مل کر گائے کی قربانی کی، کچھ گوشت فقراء میں تقسیم کر دیا اور بقیہ پکا کر ایک ساتھ کھانا چاہتے ہیں تو اس صورت میں گوشت تقسیم کر کے ہر ایک کو اپنا اپنا حصہ دینا ضروری ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا۔
الجواب: اس صورت میں تقسیم ضروری نہیں کیوں کہ یہ اباحت ہے تملیک و تملک کے معنی اس میں نہیں۔ (احسن الفتاوی:
۷
/
۵۰۰
، بحوالہ شامی)۔
فتاوی محمودیہ میں ہے:
سوال کا خلاصہ یہ ہے کہ سب حصہ دار ایک ہی جگہ رہتے ہیں اور ایک ساتھ ہی سب کا کھانا پینا ہے، تو تقسیم ضروری ہے یا نہیں؟
جواب میں فرمایا: تقسیم کرنا لازم نہیں، اکٹھا ہی پکا کر کھائیں تب بھی درست ہے، شامی۔ (فتاوی محمودیہ: ۱۷/ ٤۲٤، جامعہ فاروقیہ)۔
عزیز الفتاوی میں ہے:
گائے کی قربانی میں سات آدمی شریک ہو سکتے ہیں اپنے ہوں یا بیگانے، اگر اپنے بھائی وغیرہ رشتہ دار ایک گھر کے رہنے والے ہیں تو تقسیم کرنے کی ضرورت نہیں ہے، سب اکٹھا گوشت رکھیں اور کھاویں، شامی رحمہ اللہ نے اس کی تصریح کی ہے کہ تقسیم کرنا لازم نہیں ہے۔ (فتاوی دار العلوم دیوبند، جلدِ اول، ص 683، دار الاشاعت)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.