حدیث "الغلام مرتہن الخ" کا مطلب:
Question
"
الغلام مرتهن بعقيقته يذبح عنه يوم السابع ويحلق رأسه ويسمي". (سنن ابن ماجه، ص ۲۲۸)
اس حدیث کا کیا مطلب ہے؟
Answer
حدیثِ مذکورہ بالا کے چار مطلب ہو سکتے ہیں:
(۱) بچہ عقیقہ نہ ہونے کی وجہ سے شفاعت سے محبوس اور ممنوع ہوگا، بغیر عقیقہ کے شفاعت نہیں کرے گا ۔
(۲) بچہ عقیقہ کے بغیر قبولیت سے محبوس اور روکا ہوا ہے ۔
لیکن ان دونوں معنوں میں یہ اشکال ہے کہ ان دونوں معانی کی روشنی میں عقیقہ واجب یا سنتِ مؤکدہ ہونا چاہیے ۔ حالانکہ عقیقہ نہ واجب ہے اور نہ سنتِ مؤکدہ ۔ الا یہ کہ عقیقہ کے وجوب کو منسوخ کہا جائے ۔
(۳) تیسرا مطلب یہ ہے کہ بچہ مرہون کی طرح ہے، رہن دین کے بدلہ میں جب رہن راہن کو مل جائے تو اس کو چاہیے کہ دین یا قرضہ ادا کر دے جب اللہ تعالی نے آپ کو نعمت یا رحمت عطا فرمائی تو اس کے عوض عقیقہ اللہ تعالی کے لیے کر دو ۔ اس معنی میں بھی لزومِ عقیقہ کا شبہ پیدا ہوتا ہے ۔
(۴) رہن حبس کے معنی میں ہے، تو مطلب یہ ہے کہ بچہ گندے خون آلودہ بالوں میں گرفتار ہے ساتویں دن عقیقہ کر کے اس کے بالوں کا حلق کر کے اس کو گرفتاری سے نجات دے دو ۔ اس معنی کی تائید ان الفاظ سے ہوتی ہے: "
فأميطوا عنه الأذى"
۔ علامہ سیوطی رحمہ اللہ نے لکھا ہے:
وقيل: معناه أنه مرهون بأذى شعره واستند بقوله: "فأميطوا عنه الأذى وهو ما علق به من دم الرحم. (حاشية سنن ابن ماجه، ص ۲۲۸، رقم الحاشية، ۶).
عقیقہ کے معنی بھی ان بالوں کے ہیں جو ولادت کے وقت بچہ کے سر پر ہوں اور ان کو کاٹا اور صاف کیا جائے،
وهو الشعر الذي يكون على المولود حين يولد من العق والشق والقطع. (سنن ابن ماجه، ص: ۲۲۸، رقم الحاشية، ۵).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
"الدلائل القوية لا ثبات العقيقة عند الحنفية"
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.