انسان کا پیشاب بطورِ دوا پینے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 6 #295Urdu
Vol. 6كتاب الحظر والإباحةباب (۳): أحكام التداوي

Question

قریبی زمانہ میں میڈیکل سائنس نے یہ منکشف کیا کہ آدمی کے لیے اپنا پیشاب پینا بہت مفید ہے اور اس میں بہت سی بیماریوں کے لیے شفا ہے حتی کہ دل کی بیماری اور کینسر کے لیے بھی شفا ہے ۔ لہذا درجِ ذیل مسائل کے بارے میں شریعتِ مطہرہ کا کیا حکم ہے؟
(۱) کیا مسلمانوں کے لیے اپنی بیماریاں دور کرنے کے لیے وقتاً فوقتاً اپنا پیشاب پینا جائز ہوگا؟
(۲) بوقتِ ضرورتِ شدیدہ مہلک بیماری دور کرنے کے لیے پیشاب پینے کی اجازت ہو گی یا نہیں؟
(۳) جس طرح خون ایک دوسرے کے جسم میں منتقل کیا جاتا ہے اسی طرح پیشاب میں کرنا صحیح ہوگا یا نہیں؟
(٤) خون کی طرح پیشاب کو بھی محفوظ رکھنا اور بینک قائم کرنا صحیح ہے یا نہیں؟
(۵) کیا اپنا پیشاب دوسرے کو بطورِ دوا استعمال کرنے کے لیے دینا جائز ہوگا یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔

Answer

(۱) پیشاب نجس العین ہے عام حالات میں اس کو پینا اور اس کو استعمال کرنا کسی طرح جائز اور درست نہیں ہے ۔
(۲) ضرورتِ شدیدہ کے وقت بھی جب ماکول اللحم جانور کے پیشاب سے ضرورت پوری ہوتی ہو تو انسان کے پیشاب کا استعمال جائز نہیں ۔
باقی سائنس دانوں کا یہ کہنا کہ پیشاب ہر حالت میں مفید ہے یہ غلط بات ہے بعض ڈاکٹر تو مشت زنی اور لواطت کو بھی ٹھیک کہتے ہیں تو کیا ان کی بات کو تسلیم کیا جائے گا؟ ہرگز نہیں ۔
(۳) پیشاب کو خون کی طرح منتقل کرنا جائز نہیں ہے ۔
(٤) پیشاب کو محفوظ کرنا بلا ضرورت ہے اس کی اجازت نہیں ہے ۔
(۵) عند الضرورۃ ماکول اللحم جانور کے پیشاب سے کام چلایا جائے ۔
ملاحظہ ہو فتاوی شامی میں ہے:

قال في النهاية وفي التهذيب يجوز للعليل شرب البول والدم والميتة للتداوي إذا أخبره طبيب مسلم أن فيه شفائه ولم يجده من المباح ما يقوم مقامه وإن قال الطبيب يتعجل شفاؤك به فيه وجهان

وما قيل: إن الاستشفاء بالحرام حرام غير مجري على إطلاقه وأن الاستشفاء بالحرام إنما لا يجوز إذا لم يعلم أن فيه شفاء أما إذا علم وليس له دواء غيره يجوز. (فتاوى الشامي: ۵/۲۲۸، سعيد).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.